تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 78

میں اس کے معنے دوپہر کے وقت آرام کرنے کی جگہ کے ہوںگے۔( مفردات و اقرب) تفسیر۔ان آیا ت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی کوئی امید نہیں رکھتے یا جن کے دلوں میں ہماری سزا اور عذاب کا کوئی خوف نہیں ان کی بھی عجیب حالت ہے۔کبھی تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اُترتے اور کبھی یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہم کو خدا کیوں نظر نہیں آتا۔یہ بیوقوف اپنے آپ کو دیکھتے نہیں کہ کیسے گندےاور ناپاک ہیں۔آخر انہوں نے اپنے آپ کو کیا سمجھ رکھا ہے کہ ایسے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔رِجَاء کے معنے عام طور پر امید کے ہوتے ہیں مگر رِجَاء کے ایک معنے ڈر اور خوف کے بھی ہوتے ہیں ( اقرب ) اسی طرح لِقَاء کا لفظ جہاں ملاقات کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے وہاں اس کے ایک معنے جنگ کے بھی ہوتے ہیں۔پس لَا یَرْجُوْنَ لِقَآ ءَ نَا کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔یہ بھی کہ وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی اُمید نہیں رکھتے اور یہ بھی کہ جو لوگ ہماری سزا سے خوف نہیں کھاتے۔چونکہ دنیا میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو اگر کوئی امید دلائی جائے تو وہ بڑے شوق سے کام کرنےکے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو سزا کا خوف دلایا جائے تب وہ کام کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔اس لئے لَا یَرْجُوْنَ لِقَآ ئَ نَا فرما کر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قسم کی طبائع کوملحوظ رکھ لیا اور فرمایا کہ ان لوگوں نے ہمارے انعام اور برکات کے وعدوں سے کوئی فائدہ اٹھایا اورنہ عذاب کی خبروں سے اپنے اندر کوئی تبدیلی پیدا کی بلکہ برابر یہ لوگ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ اگر یہ رسول سچا ہے تو ہم پر خدا تعالیٰ کے فرشتے کیوں نہیں اُترتے یا ہمیں خدا تعالیٰ کی روئت کیوں نصیب نہیں ہوتی۔اس جگہ جو لِقَا ء کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مفسرین نے اس کے مختلف معنے کئے ہیں۔بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے عذاب کی پرواہ نہیں کرتے۔اور بعض نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی رئویت کی اُمید نہیں رکھتے یا یہ کہ جزائے خیر کی اُمید نہیں رکھتے۔لیکن درحقیقت لقاء ایک روحانی مقام ہے جو اسلام پر چلنے والوں کو حاصل ہوتا ہے۔رؤیت کے معنے تو صرف اتنے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا جلوہ دیکھ لیا جو ایک عارضی چیز ہے لیکن لقاء کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خدا مل گیا اور ایک مستقل مقام کا نام ہے۔اس لئے صوفیا ء کی اصطلاح کے مطابق رئو یت حال ہے اور لقاء ایک مستقل مقام ہے۔اور یہی ایک چیز ہے جو اسلام اور دوسرے مذاہب میں مابہ الامتیاز ہے۔دوسرے مذاہب اپنے پیرئوں سے اللہ تعالیٰ کے وصال کا صرف وعدہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ وصال قیامت کے دن ہوگا۔مگر قرآن کریم اس نظریہ کو ردّ کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لقاء الٰہی کا مرتبہ اسی دنیا میں انسان کو حاصل ہو سکتا ہے بلکہ وہ اس پر اتنا زور دیتا ہے کہ فرماتا ہے۔مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ