تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 71
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ اور تجھ سے پہلے ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے تھے وہ سب کے سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے۔الطَّعَامَ وَ يَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ اور ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنا یا ہے ( یہ دیکھنےکے لئے ) کہ کیا تم( مسلمان) صبر لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًاؒ۰۰۲۱ کرتے ہو(یا نہیں) اور (اے مسلمان) تیرا رب (حالات کو) بہت دیکھنے والا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔ہم نے تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے تھے وہ سب کے سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔اور ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لئے آزمائش کا موجب بنایا ہے۔تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ کیا تم صبر سے کا م لیتے ہو یا نہیں۔اور اے رسول ! تیرا رب اپنے بندوں کے حالات کوخوب جانچ رہا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وہ انبیاء جن کو یہ لوگ اپنی نادانی سے اس کا شریک قرار دے رہے ہیں اُن کی اپنی حالت تو یہ تھی کہ وہ حوائج بشر یہّ سے مستغنی نہیں تھے۔وہ اسی طرح کھانے پینے کے محتاج تھے جس طرح یہ لوگ محتاج ہیں اور وہ اسی طرح بازاروں میں چلتے پھرتے اور اپنی ضروریات کی چیزیں وہاں سے خریدتے تھے جس طرح یہ لوگ خریدتے ہیں۔پھر انہیں کیا ہوگیا ہے کہ انہوں نے اپنے جیسے انسانوں کو خدا بنا لیا اور ان سے دعائیں کرنااپنا معمول بنا لیا۔گویا بتا یا کہ اللہ تعالیٰ کے اندر صمدیت کا پایا جانا ضروری ہے اور صمد اُس ہستی کو کہتے ہیں جو خود تو کسی کی محتاج نہ ہو مگر باقی سب اس کی محتاج ہوں۔لیکن ان معبودانِ باطلہ کو دیکھ لو کہ یہ سب کے سب کھانے پینے کے محتاج تھے اور سب کے سب اپنے سامانِ معیشت کی فراہمی کے لئے دوسروں کے تعاون کے حاجت مند تھے۔پھر ایسے لوگ جو خود ایک فانی جسم لے کر آئے اور موت کا شکار ہوگئے اور جن کی زندگیاں بتا رہی ہیں کہ وہ ایسے ہی ایک انسان تھے جیسے تم انسان ہو۔ان کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دے دینا کہاں کی دانائی ہے۔یہ لوگ بے شک خدا تعالیٰ کے فرستادہ تھے مگر ان کو شریک ِ باری قرار دینا بڑا بھاری گناہ ہے۔اس زمانہ میں سب سے بڑا فتنہ عیسائیت کا فتنہ ہے جس نے حضرت مسیح ؑ کو خدا قرار دے کر دنیا کے ایک بڑے حصہ کو شرک میں مبتلا کر رکھا