تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 70

جب گھر کا مالک اُٹھ کر دروازہ بند کر چکا ہو اور تم باہر کھڑے دروازہ کھٹکھٹا کر یہ کہنا شروع کرو کہ اے خداوند ! ہمارے لئے کھو ل دے اور وہ جواب دے کہ میں تم کو نہیں جانتا کہ کہاں کے ہو۔اُس وقت تم کہنا شروع کرو گے کہ ہم نے تو تیرے رُو برو کھایا پیا اور تُو نے ہمارے بازاروں میں تعلیم دی۔مگر وہ کہےگا میں تم سے کہتا ہوں کہ میں نہیں جانتا تم کہاں کے ہو۔اے بد کارو ! تم سب مجھ سے دور ہو۔وہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگا۔‘‘ ( لوقا باب ۱۳ آیت ۲۲ تا ۲۸) ان حوالہ جات میں حضرت مسیح ؑ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ میرے نام کے پیچھے چلنے والے تو بہت لوگ ہیں مگر نجات حاصل کرنے والے تھوڑے ہیں۔جب قیامت کا دن آئےگا اُس دن میں اُن سے صاف کہہ دوںگا کہ اے بدکارو! تم سب مجھ سے دور ہو جائو ،میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔غرض جب مشرکین کے سامنے اُن کے معبود حقیقت حال کو ظاہر کردیں گے تو اُن پر اُن کے عقائد کا بطلان واضح ہو جائےگا اور وہ سمجھ لیں گے کہ انہوں نے ان ہستیوں کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دے کر بڑے بھاری گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ان آیات سے یہ بھی ظاہر ہے کہ قوموں پر جب ایک لمبا زمانہ گذر جاتا ہے اور زمانۂ نبوت سے اُن کا بُعد ہو جاتا ہے اور دنیوی نعماء اور مادی لذات میں اُن کا انہماک ہو جاتا ہے تو رفتہ رفتہ اُن میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو نی شروع ہو جاتی ہیں۔جن میں سے سب سے بڑی خرابی اعتقادی رنگ میں یہ پیدا ہوتی ہے کہ وہ غلّو سے کام لےکر اللہ تعالیٰ کے اُن فرستادوں کو جو دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوتے ہیں اس کا شریک قرار دینے لگ جاتے ہیں یہ شریک قرار دینا بعض دفعہ تو علانیہ طور پر ہوتا ہے۔جیسے عیسائیوں نے حضرت مسیح ؑ کو خدا قرار دےکر یہ کہنا شروع کر دیا کہ باپ بھی ازلی ہے اور بیٹا بھی ازلی ہے۔اوررُوح القدس بھی ازلی ہے اور بعض دفعہ وہ اپنے بزرگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے اور اُن سے دعائیں کرنا اپنا معمول بنا لیتے ہیں۔اور اس طرح اُن بزرگوں کو شریک ِباری قرار دے دیتے ہیں۔جیسے آج کل مسلمانوں میں بڑے بڑے بزرگوں کے مقابر پر ہر سال میلے لگتے اور ہزاروں مسلمان وہاں قبروں پر سجدے کرتے اور مُرادیں مانگتے ہیں۔یہ تمام امو رشرک میں داخل ہیں جو خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والے ہیں۔مومن کامل وہی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی سچی توحید پر ایمان رکھے اور ہر قسم کے مشرکانہ خیالات اور اعمال سے بچتا رہے۔