تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 72

ہے لیکن اگر اناجیل کو دیکھا جائے تو اُن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ؑ بھی اُسی طرح کھانے پینے کے محتاج تھے جس طرح دوسرے لوگ محتاج تھے چنانچہ انجیل میں لکھا ہے کہ ’’ یسوع رُوح القد س سے بھرا ہوا یردن سے لوٹا اور چالیس دن تک روح کی ہدایت سے بیابان میں پھرتا رہا اور ابلیس اُسے آزماتا رہا۔ان دنوں میں اُس نے کچھ نہ کھا یا اور جب وہ دن پورے ہو گئے تو اُسے بھوک لگی۔‘‘ ( لوقا باب ۴ آیت ۱،۲) اس جگہ عیسائیوں نے گو مبالغہ سے کام لیتے ہوئے یہ لکھ دیا ہے کہ یسوع مسیح نے چالیس دن تک کچھ نہ کھایا مگر بہر حال اتنی بات انہیں بھی تسلیم کرنی پڑی کہ چالیس دن کے بعد مسیح کو بھوک لگی اور اُس نے چاہا کہ اُسے کچھ کھانے کو ملے جس سے اس کی احتیاج ظاہر ہے۔پھر لکھا ہے۔’’ دوسرے دن جب وہ بیت عنیّا سے نکلے تو اُسے بھوک لگی اور وہ دُور سے انجیر کا درخت جس میں پتے تھے دیکھ کر گیا کہ شاید اُس میں کچھ پائے مگر جب اُس کے پاس پہنچا تو پتوں کے سوا کچھ نہ پایا کیونکہ انجیر کا موسم نہ تھا۔اُس نے اُس سے کہا آئندہ کوئی تجھ سے کبھی پھل نہ کھائے اور اُس کے شاگردوں نے سُنا۔‘‘ ( مرقس باب ۱۱ آیت ۱۲ تا ۱۴ـ) اس حوالہ سے بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح کو اسی طرح بھوک محسوس ہوتی تھی جس طرح دوسرے لوگوں کو محسوس ہوا کرتی ہے۔بلکہ ایک دفعہ جب انہیں کھانے کے لئے کوئی چیز نہ ملی تو وہ انجیر کے ایک درخت کی طرف گئے کہ شاید مجھے انجیر یں ہی کھانےکے لئے مل جائیں۔مگر بدقسمتی سے وہ یہ بات بھول گئے کہ آج کل انجیر کا موسم ہی نہیں اور وہاں سے وہ ناکام واپس گئے۔مگر چونکہ بھوک کی وجہ سے انہیں تکلیف ہورہی تھی۔انہیں اس ناکامی پر غصہ آگیا اور انہوں نے اس درخت کو یہ بد دعا دے دی کہ آئندہ کوئی شخص تجھ سے کبھی پھل نہ کھائے۔یہ واقعہ بھی حضرت مسیح کی الوہیّت کو باطل ثابت کرتا ہے کیونکہ اس سے نہ صر ف اُن کا عام انسانوں کی طرح بھوک محسوس کرنا ثابت ہوتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ علمِ غیب تو الگ رہا اتنی بات بھی نہیں جانتے تھے کہ کون سے موسم میں انجیر کا درخت پھل دیا کرتا ہے۔اگر جانتے تو وہ ایسے موسم میں جب کہ انجیر کا درخت پھل ہی نہیں دیا کرتا ایک درخت کی طرف کیوں دوڑے جاتے ؟ پھر جب انہوں نے خود ایک غلطی کی تو اُس کے نتیجہ میں اُن کا درخت کو بددعا دینا بھی اپنے اندر کوئی معقولیت نہیں رکھتا۔عیسائی تو خدا تعالیٰ کے عادل ہونے پر بڑا زور دیا کرتے ہیں مگر یہ عجیب انصاف ہے کہ غلطی تو انہوں نے خود کی اور بد دعا ایک درخت کو دے دی۔پھر لکھا ہے