تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 59

سے نگرانوں اور محافظوں کا سلسلہ جاری رہے۔بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ حق یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔اور ہم نے اُس کے لئے جو قیامت کا منکر ہو بھڑکنے والے بِالسَّاعَةِ سَعِيْرًاۚ۰۰۱۲اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِيْدٍ عذاب کا انتظام کر چھوڑا ہے۔جب وہ (یعنی جہنم) اُن کو دور سے دیکھے گی تو وہ اُس کے جوش کی اور( آنےوالی) سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّ زَفِيْرًا۰۰۱۳وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا مصیبت کی آواز کو سنیں گے۔اور جب وہ اُس (یعنی دوزخ) کے ایک تنگ حصہ میں مشکیں باندھے ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ۰۰۱۴لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ہوئے پھینکے جائیں گے اور وہ اُس وقت موت کی آرزو کریں گے۔(تب خدا کے فرشتے اُن سے کہیں گے ) ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِيْرًا۰۰۱۵ آج ایک موت کی آرزو نہ کرو بلکہ بار بار موت کی خواہش کرو (کیونکہ تم پر بار بار عذاب آنےوالے ہیں)۔حلّ لُغَات۔زَفِیْرٌ۔اَلزَّفِیْرُ: تَرَدُّ دُالنَّفَسِ حَتّٰی تَنْتَفِخَ الضُّلُوْعُ مِنْہُ یعنی سانس کے اندر جانے اور اُس سے پسلیوں کے پھولنے کو زفیر کہتے ہیں ( مفردات ) اَلزَّفِیْرُ: الدَّاھِیَۃُ۔مصیبت۔اَوَّلُ صَوْتِ الْحِمَارِ وَالشَّھِیْقُ اٰخِرُہٗ۔نیز گدھے کی آواز کے ابتدائی حصہ کو زفیر کہتے ہیں اور آخری آواز کو شہیق کہتے ہیں ( اقرب ) مُقَرَّ نِیْنَ: مُقَرَّنِیْنَ قَرَّنَ سے اسم مفعول کا جمع کا صیغہ ہے۔اور جب قُرِّنَتِ الْاُسَارٰی فِی الْـحِبَالِ کا فقرہ کہیں تو معنے یہ ہوتے ہیں کہ جُمِّعَتْ رسیوں میں قیدیوں کو باندھا گیا ( اقرب) پس مُقَرَّنِیْنَ کے معنے ہوںگے رسیوں میں باندھے ہوئے۔ثُبُوْرًا۔ثُبُوْرًا ثَبَرَ کا مصدر ہے اور ثَبَرَ ثُبُوْرًا کے معنے ہیں ھَلَکَ۔وہ ہلاک ہو گیا اور جب ثَبَرَ اللّٰہُ زَیْدًا