تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 60

کہیں تو اس کے معنے ہوںگے اَھْلَکَہٗ اِھْلَاکًا دَائِمًا لَا یَنْتَعِشُ بَعْدَہٗ کہ اللہ تعالیٰ نے زید کو اس طرح تباہ کیا کہ جس کے بعد اُس کے لئے اُٹھنے کا کوئی امکان نہ رہا۔وَالنَّصْبُ فِیْ قَوْلِہٖ دَعَوْا ھُنَالِکَ ثُبُوْرًا عَلَی الْمَصْدَرِ کَاَنَّھُمْ قَالُوْا ثَبَرْنَا ثُبُوْرًا۔اور آیت دَعَوْا ھُنَالِکَ ثُبُوْرًا میں ثُبُوْرًا پر نصب آئی ہے گویا اس سے پہلے فعل مخدوف ہے اور مراد یہ ہے کہ وہ پکار یں گے کہ ہم پوری طرح ہلاک ہو گئے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔ان لوگوں کو تو جزاء و سزا پر ایمان ہی نہیں ورنہ یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات دیکھ کر آپ کی ترقی میں کسی قسم کا شبہ نہ کرتے۔اب یہ لوگ آپ ؐکی ترقی دیکھیں گے تو اُن کے دل جلتے چلے جائیں گے۔وہ دوزخ جو اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں تیار کی ہے جب وہ ان کو دُور سے دیکھے گی تو ان لوگوں کو نظر آجائےگا کہ اب اس دوزخ سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں۔اس جگہ کہا تو یہ گیا ہے کہ جب دوزخ انہیں دُور سے دیکھے گی۔مگر مراد یہ ہے کہ جب یہ لوگ اسے دُور سےدیکھیں گے۔اس قسم کی زبان کو عربی میں تقلیبِ نسبت کہتے ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ پرنالہ چلتا ہے حالانکہ پرنالہ نہیں چلتا بلکہ پانی چلتا ہے۔یا کہتے ہیں کہ سورج زمین کے گرد چکر کھا رہا ہے۔حالانکہ سورج زمین کے گرد چکر نہیں کھا رہا بلکہ زمین سورج کے گرد چکر کھا رہی ہے۔اسی طرح یہاں بھی تقلیبِ نسبت سے کام لیتے ہوئے کہا تو یہ گیا ہے کہ جب دوزخ اُن کو دور سے دیکھے گی لیکن مراد یہ ہے کہ جب وہ لوگ دوزخ کودور سے دیکھیں گے۔یعنی جونہی اس دوزخ کے سامان پیدا ہوں گے تو اُن کو نظر آجائے گا کہ اب اس دوزخ سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔اور جب وہ اس دوزخ میں ڈالے جائیں گے یعنی مسلمانوں کی ترقی کو دیکھ کر رنج و غم اور حسرت و افسوس کے دوزخ میں گریںگے تو اُس وقت اُن کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے ہوں گے یعنی اُن کی مقابلہ کی طاقت بالکل زائل ہو چکی ہوگی۔اور وہ ملک کو اپنے لئے تنگ پائیں گے اور کوشش کریں گے کہ کسی دوسرے ملک میں بھاگ جائیں۔جیسے فتح مکہ کے بعد عکرمہ ؓ نے چاہا کہ وہ بھاگ کر حبشہ چلا جائے(طبری ذکر الخبر عن فتح مکۃ) لیکن فرماتا ہے انہیں بھاگنے کی بھی کوئی جگہ نہیں ملے گی۔کیونکہ وہ جہاں جائیں گے مسلمانوں کو غلبہ میّسر آجائےگا۔اُس وقت یہ لوگ دعائیں کریں گے کہ یاا للہ ہم کو موت دے دے تاکہ ہم مسلمانوں کی یہ ترقی نہ دیکھیں۔تب آسمان کے فرشتے کہیں گے کہ ایک موت کا تو سوال ہی نہیں تم پر تو ہلاکت پر ہلاکت آنےوالی ہے۔یعنی ابھی تو تم پر اور بھی عذاب آئیں گے اور تم ان کو دیکھ کر اور بھی گھبرائو گے کیونکہ اب الٰہی فیصلہ یہی ہے کہ مسلمان بڑھتے چلے جائیں گے اور تم کمزور ہی کمزور ہو تے چلے جائوگے۔ان آیات میں ساعۃ کا لفظ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ اور آپؐ کی کامیابی کے معنوں میں استعمال کیا