تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 58

موجب تھے۔زمانہ نے ہمیں اسی وقت اپنے انقلاب کا شکار بنایا جب موت نے ان بابر کت وجودوں کو ہم سے جُدا کر دیا۔اب ہمارا یہ حال ہے کہ دل اُن کی جدائی میں غم و اندوہ سے انگارے کی طرح جل رہے ہیں اور آنکھیں اُن کی یاد میں پانی بن کر بہ رہی ہیں۔یہ اشعار بتاتے ہیں کہ مردِ کامل کو بھی ایک قلعہ یا محل کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے دنیا کی حفاظت ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو تجھ سے دنیوی خزانے اور مادی محلات اور ظاہر ی شان و شوکت کے آثار طلب کرتے ہیں اور ہم نے تو تیرے لئے بڑے بڑے عالی شان محل تیار کر چھوڑے ہیں جو ا ن کے واہمہ اور گمان میں بھی نہیں۔یعنی اعلیٰ درجہ کے رُوحانی شاگرد اور اولیا ء اللہ تیار کئے ہیں جن کی حفاظت میں مسلمان ہمیشہ ترقی کرتے چلے جائیں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کے مطابق ہر صدی میں ایسے صلحاء اور اولیا ء اور ابدال اور اقطاب اور مجددین کھڑے کئے جنہوں نے اسلام کو ہر قسم کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے حملوں سے بچایا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لگائے ہوئے باغ کی ایک ادنیٰ چاکر اور غلام بن کر خدمت کی اور اُس کے پھولوں اور پھلوں کی حفاظت میں اپنی عمر یں بسر کر دیں۔آج بھی ہر شہر اور ہر گائوں جس میں مسلمانوں کی آبادی ہے اس کے قبرستانوں میں کوئی نہ کوئی قبر کسی ایسے بزرگ یا ولی کی ضرور پائی جاتی ہے جس نے اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اپنے علاقہ میں قائم کی اور اسلامی برکات سے لوگوں کو روشناس کیا۔اور یقیناً ایسے لوگوں کو اگر شمار کیا جائے تو اُن کی تعداد لاکھوں سے بھی متجاوز ہوجائےگی۔اس کے مقابلہ میں دنیا کا اور کوئی مذہب ایسا نہیں جس کے ماننے والے کسی ایسے شخص کو پیش کر سکیں جس نے اُن کے مذہب پر چل کر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کیا ہو۔یا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مذہب کی تجدید اور اس کی اشاعت کے لئے مبعوث ہوا ہو۔یہ عملی نظارہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے باقی تمام مذاہب کو ترک کر دیا ہے اور صرف اسلام سے ہی اپنی محبت اور تعلق کو مخصوص کر لیا ہے۔اب وہی شخص اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے جو محمدی باغ کا خوشہ چین بنے اور اُسی شخص کے سپر د اصلاحِ خلق کا کام ہوتا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ادنیٰ غلام بن کر آپ کے مقدس باغ کی رکھوالی کاکام کرے کیونکہ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لگائے ہوئے باغ کے سوا باقی تمام باغ خشک ہو چکے ہیں جن کی حفاظت اور نگرانی کے لئے کسی باغبان کی ضرورت نہیں۔ہر ا بھرا باغ اور ہر قسم کے پھولوں اور پھلوں سے لدے ہوئے درخت صرف محمدی باغ میں ہی پائے جاتے ہیں۔جس کے متعلق یہ الٰہی فیصلہ ہے کہ وہ ہمیشہ سرسبز و شاداب رہے اور قیامت تک اس کی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف