تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 617

۔اورعشق کی دوسری حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ خواہ اَورکاموں میں مشغول رہے اس کادل اپنے محبوب کی طرف ہی رہتاہے۔پس عشق دونوں باتوں کا تقاضاکرتاہے۔عشق یہ بھی چاہتاہے کہ عاشق اپنے معشوق کے لئے اورکاموں سے فار غ ہوجائے۔اورعشق یہ بھی چاہتاہے کہ عاشق اپنے معشوق کا ہروقت ذکرکرتارہے۔پس چونکہ یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں اس لئے اسلام نے بعض جگہ تسبیح و تحمید کی ایک معین مقدار بھی مقررکردی اورپھر یہ بھی کہہ دیاکہ مومن صرف اس تعدا د پر انحصا رنہیں رکھتے بلکہ وہ اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اورہروقت ان کی زبانیں ذکر الٰہی سے تررہتی ہیں۔اس طرح یہ دونوں چیزیں مل کر ایک مومن کے عشق کو مکمل کرتی ہیں۔اگراسے یہی خیال آتارہے کہ میں فلاں وقت میں ذکر کروں گا آگے پیچھے نہیں کروں گا تواس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ اپنے اوقات کو کلی طورپر خدا تعالیٰ کی یاد میں صرف کرنے کے لئے تیار نہیں۔وہ اس بات کا منتظر رہتاہے کہ مقررہ وقت آئے تووہ ذکر کرے۔حالانکہ مومن وہی ہے جو ہرحالت میں خدا تعالیٰ کو یاد رکھتاہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کسی بزرگ کا یہ مقولہ سنایاکرتے تھے کہ ’’ دست درکار و دل بایار ‘‘یعنی انسان کے ہاتھ تو کاموں میں مشغول ہونے چاہئیں لیکن اس کادل خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوناچاہیے۔اسی طرح ایک بزرگ کے متعلق مشہور ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ میں کتنی دفعہ اللہ تعالیٰ کا ذکرکیاکروں۔توانہوں نے کہا کہ ’’ محبوب کانام لینا اورپھر گن گن کر ‘‘۔تواصل ذکروہی ہے جو اَن گنت ہو۔مگرایک معین وقت مقرر کرنے میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ انسان اس وقت اپنے محبوب کے لئے اورکاموں سے بالکل الگ ہو جاتا ہے۔اور چونکہ یہ دونوں حالتیں ضروری ہیں اس لئے صحیح طریق یہی ہے کہ معین رنگ میں بھی ذکر الٰہی کیاجائے اورغیر معین طورپربھی اُٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کو یاد کیاجائے۔اوراس کے فضلوں اوراحسانات کاباربار ذکرکیاجائے۔تیسری خصوصیت اللہ تعالیٰ نے اس جگہ مومنوں کی یہ بتائی ہے کہ وَانْتَصَرُوْامِنْ بَعْدِ مَاظُلِمُوْا۔وہ خود توکسی پر ظلم نہیں کرتے لیکن اگر کوئی دوسراان پر ظلم کرے تو پھر وہ پیچھے نہیں ہٹتے بلکہ دلیری سے ظالم کامقابلہ کرتے ہیں۔چونکہ یہ سورۃ مکی ہے جب کہ ابھی جہاد کا حکم نازل نہیں ہواتھااس لئے درحقیقت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمائی ہے کہ اس وقت تومسلمان دشمن کے ظلم و ستم سہہ رہے ہیں لیکن مت سمجھو کہ دشمن کے یہ مظالم رائیگاں چلے جائیں گے۔بلکہ ایک دن آئے گا کہ ہم انہی مظلوم اور بے کس بندوں کودشمن کے مقابلہ کی اجازت دےدیں گے۔مگراس وقت بھی یہ اپنے دشمن پرکوئی ظلم نہیں کریں گے بلکہ صرف جائز حد تک اس کے مظالم کا انتقام لیں گے۔اورپھر آخر میں سب سے بڑی دلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی اللہ تعالیٰ یہ دیتاہے کہ وَ سَيَعْلَمُ