تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 616
چلاجاتاہے۔امام سجدہ میں جاتاہے تومقتدی بھی سجدہ میں جھک جاتاہے۔لیکن جوخاموشی کاحصہ ہوتاہے اس میں ہرشخص آزاد ہوتاہے۔مقتدی کوئی دعامانگ رہاہوتاہے اورامام کوئی دعامانگ رہاہوتاہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے دونوں طبائع کاعلاج کردیا۔ان کابھی جو دوسروں کوذکرمیں مشغول دیکھ کر ذکرکرنے کی عادی ہوتی ہیں اوران کابھی جنہیں اس وقت عبادت میں لذت آتی ہے جب و ہ علیحدہ ہوں۔چنانچہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں مجلس میں دعاکرتے وقت رقّت آتی ہی نہیں اوربعض ایسے ہوتے ہیں کہ جونہی وہ کسی کی چیخ سنتے ہیں۔ان کی بھی چیخیں نکل جاتی ہیں پہلے انہیں جوش نہیں آتا۔لیکن دوسرے کی گریہ و زاری دیکھ کر انہیں بھی رونا آجاتاہے۔لیکن کامل مومن وہ ہوتاہے کہ جب وہ علیحدہ بیٹھتاہے تب بھی خدا تعالیٰ کا ذکر کرتاہے اور جب مجلس میں بیٹھتاہے تب بھی اس کا ذکر کرتاہے۔اسی وجہ سے اسلام نے انفرادی ذکر پر بھی بڑازوردیاہے اوراجتماعوں کے مواقع پر بھی ذکر ِ الٰہی پر زور دیاہے۔چنانچہ مسلمان جب حج کے لئے جاتے ہیں تو وہاں بھی ذکر الٰہی ہوتاہے۔عیدین کے لئے جاتے ہیں تو وہاں بھی ذکر الٰہی ہوتا ہے۔شادی اوربیاہ کے لئے جاتے ہیں تووہاں بھی ذکر الٰہی ہوتاہے۔جنازہ کے لئے جاتے ہیں تووہاں بھی ذکر الٰہی ہوتاہے۔گویاہرقسم کے اجتماعوں کوبابرکت بنانے کانسخہ اسلام نے یہی بتایاہے کہ ذکرالٰہی پر زوردیاجائے۔اس کے مقابلہ میں انفرادی ذکر کی اہمیت بھی اسلام نے با ر باربتائی ہے۔یہاں تک کہ کھانا کھاتے وقت۔کھانے سے فارغ ہوتے وقت ،سوتے وقت جاگتے وقت۔سفرپرجاتےوقت۔سفرسے آتے وقت۔غم کے وقت خوشی کے وقت۔مسجد میں آتے وقت اورمسجد سے جاتے وقت۔بلندی پرچڑھتے وقت اور بلندی سے اترتے وقت۔اسی طرح آئینہ دیکھتے وقت۔کپڑے بدلتے وقت۔نیاچاند دیکھتے وقت۔یہاں تک کہ بیوی کے پاس جاتے وقت بھی دعائوں اورذکر الٰہی کی تاکید کی ہے۔اورپھر فرمایا ہے کہ ہرکام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیاکرو۔ورنہ تمہاراکام بے برکت ہوجائے گا(ترمذی ابواب الاطعمۃ، ابواب الدعوات، ابو اب اللباس و بخاری کتاب الدعوات و کتاب الجہاد و السیر)۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام نے یہ بھی کہا ہے کہ ہرنماز کے بعد تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللہِ تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلہِ اورچونتیس دفعہ اَللہُ اَکْبَرُ کہہ لیا کرو۔مگراسلام نے یہ بھی کہاہے کہ مومن کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکرکرتے ہیں اوروہ صرف تینتیس یاچونتیس دفعہ تسبیح و تحمید کرنے پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ بات بات پر وہ اَلْحَمْدُ لِلہِ سُبْحَانَ اللہِ یا اَللہُ اَکْبَر کہتے رہتے ہیں۔اوردرحقیقت اگرغورسے کام لیاجائے تویہ دونوں باتیں ہی ضروری تھیں۔کیونکہ عشق میں انسان کی دونوں حالتیں ہوتی ہیں۔عشق میں ایک حالت تووہ ہوتی ہے جب انسان اورکاموں سے فار غ ہوکر اپنے محبوب سے باتیں کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے