تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 614
سے کچھ نہیں بنتا ساتھ پیاز بھی ہونا چاہیے۔اسی طرح ایک شخص زبان سے توکہہ دیتاہے کہ میں ایمان لایا اوروہ سمجھتابھی یہی ہے کہ میں ایمان کی حقیقت سے واقف ہوں مگروہ ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھ رہاہوتا۔پس ایک ایمان تواس قسم کاہوتاہے کہ ایک شخص منافقانہ طورپر صرف زبان سے کہتاہے میں ایمان لے آیا اوراس کے قول کے مطابق لوگ بھی سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ ایمان لے آیاہے مگرخدا تعالیٰ اس کے ایمان کی حقیقت کو اچھی طرح جانتاہے اوروہ منافق بھی اپنے دل میں کہتاہے کہ میں تمسخر کررہاہوں۔لیکن دوسراایمان اس قسم کاہوتاہے کہ ایک شخص سمجھتاہے کہ میں اچھی طرح ایمان کی حقیقت کو سمجھتاہوں مگردراصل وہ کچھ بھی نہیں سمجھاہوتا۔اس کے مقابلہ میں تیسری قسم کاایمان یہ ہے کہ ایک شخص فی الحقیقت ایمان کو سمجھ جاتاہے اورلوگ بھی کہتے ہیں یہ ایما ندار ہے اوراللہ تعالیٰ بھی کہتاہے کہ یہ ایماند ار ہے۔اس کی مثال اس درخت کی سی ہوتی ہے جس کی جڑزمین کے اندردو رتک چلی گئی ہو اور کسی قسم کی آندھیاں اس پر اثرانداز نہ ہوسکیں۔پہلی قسم کے ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے کوئی چھوٹاساپودااکھیڑ کرہاتھ میں پکڑاہواہو۔اوراس کی جڑوں کا زمین کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔اوردوسری قسم کے ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک درخت بظاہر زمین میں لگاہواہو مگراس کی جڑیں بالکل زمین کی اوپروالی مٹی میں ہوں۔اوروہ کسی کے ذراسے دھکے کے ساتھ ہی زمین پرآرہے اورتیسری قسم کے ایمان کی مثال ایسی ہے۔جیسے ایک بڑاتناور درخت ہو۔اوراس کی جڑیں بھی پاتال تک چلی گئی ہوں۔یہی اصل ایمان ہے جوانسان کی نجات کاموجب بنتاہے اوراس ایمان کے ساتھ عمل صالح کاہونابھی ضروری ہے۔لیکن یہ امر یاد رکھناچاہیے کہ ہمارے ہاں جن باتوں کو نیک عمل کہتے ہیں یاانگریزی میںجنہیں گڈایکشنز ( GOOD ACTIONS) کہتے ہیں قرآن کریم انہیں عمل صالح قرار نہیں دیتا۔سارے قرآن میں شاذونادر کے طور پر شایدہی کسی ایک مقام پر نیک عمل کے لئے خیر کالفظ استعمال ہواہو توہواہو۔ورنہ قرآن کریم ہمیشہ عمل صالح کالفظ استعمال کرتاہے۔اوراس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک نیکی وہی ہے جومطابق حالات ہو۔اوراگرحالات کے مطابق کوئی عمل نہ ہو تووہ عمل صالح نہیں کہلائے گا۔مثلاً اگر لوگوںسے دریافت کیاجائے کہ نیک عمل کون سے ہیں تووہ کہیں گے۔نماز ،روز ہ، زکوٰۃ،حج اورجہاد وغیرہ۔حالانکہ قرآن کریم سے ہی معلوم ہوتاہے کہ بعض نمازیں بری ہوتی ہیں۔اسی طرح روزے اوربعض صدقہ و خیرات انسان کوثواب پہنچانے کی بجائے اسے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کامورد بنادیتے ہیں۔پس معلوم ہواکہ خالی نماز نیک عمل نہیں۔اگرخالی نماز نیک عمل ہوتا تو وَیْلٌ لِّلْمُصَّلِّیْنَ (الماعون:۵)کیوں آتا۔اورکیوں اللہ تعالیٰ فرماتاکہ بعض نمازیں پڑھنے والے