تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 615

جوریاء کے لئے پڑھتے ہیں جو اس لئے پڑھتے ہیں کہ لوگ کہیں یہ بڑے بزرگ ہیں۔یہ بڑے زاہد اورعابد ہیں۔ان پر ہمار ی لعنت ہوتی ہے۔اسی طرح بعض روزے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کاانسان کو مورد بنادیتے ہیں۔مثلاً انسان عید کے دن روزہ رکھے توو ہ اسلامی نقطہ نگاہ سے شیطان بن جائے گا(بخاری کتاب الاضاحی ،باب ما یؤکل من لحوم الاضاحی)۔یاحج ہے۔اگر انسان ایسی حالت میں کرے جب اس میں حج کی شرائط نہ پائی جاتی ہوں۔یازکوٰۃایسی حالت میں دے جبکہ زکوٰۃ اس پر فرض نہ ہو تویہ اعمال صالح نہیں کہلا سکتے۔عمل صالح وہی عمل ہے جو مطابق حالات او رموقع کے مناسب ہو۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے بار بار قرآن کریم میں ایمان کے ساتھ عَمِلُواالصّٰلِحٰتِ کا ذکرکیاہے۔لوگ غلطی سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ نماز نجات دلائے گی۔یاروزہ نجات دلائے گا۔یاحج نجات دلائے گا یا زکوٰۃ نجات دلائے گی۔حالانکہ نماز و ہ نجات دلاسکتی ہے جونماز پڑھنے کے موقعہ پر پڑھی جائے۔اگرکسی وقت کفار سے جہادہورہاہو۔لڑائی لڑی جارہی ہو۔مسلمان مارے جارہے ہوں۔کفار بڑھتے چلے آرہے ہوں اورکوئی شخص مصلّٰی بچھا کر نماز پڑھنے لگ جائے۔توہم کہیں گے اس کی نماز کوئی نماز نہیں۔اس وقت جہاد کاکام کرنے کا وقت تھا۔مصلّٰی پر بیٹھ کر تسبیح پھیرنے کا وقت نہیں تھا۔اسی طرح اگر کوئی شخص نماز کے وقت نماز نہ پڑھے اورکہے میں جہاد کے لئے چلاہو ں تو ہم کہیں گے وہ نماز سے بچنے کابہانہ تلاش کررہاہے غرض اپنی ذات میں نہ نماز نجات دلاسکتی ہے۔نہ روزہ نہ زکوٰ ۃ نہ حج نہ جہاد۔بلکہ جونیک کام بھی موقع اورمحل کے مطابق ہو وہی انسان کے کام آتاہے۔مومنوں کی دوسری خصوصیت اس آیت میں بتائی گئی ہے کہ وَذَکَرُوااللّٰہَ کَثِیْرًا۔وہ اللہ تعالیٰ کابڑ ی کثرت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔چونکہ دنیا میں بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جوصرف اس وقت ذکر کی طرف توجہ قائم رکھ سکتی ہیں۔جب وہ اکیلے ذکر میں مشغول ہوں اوربعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جودوسروں کو ذکر کرتادیکھیں تب ان میں ذکر کرنے کاجوش پیدا ہوتاہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے انفرادی اورجماعتی دونوں قسم کے ذکرنمازوں میں جمع کردیئے ہیں۔چنانچہ ظہر اورعصر کی نمازیں اس طرح پڑھی جاتی ہیں کہ ہرشخص اپنا اپنا ذکرکررہاہوتاہے۔امام اپنے طور پر خاموشی سے ذکرکررہاہوتاہے اورمقتدی خاموشی سے اپنے طورپر ذکرکررہے ہوتے ہیں۔لیکن مغر ب عشاء اورفجر کے وقت اللہ تعالیٰ نے یہ طریق مقررکردیا کہ جب امام سورۃ فاتحہ پڑھے تو تم بھی سورۃ فاتحہ پڑھو۔مگر جب و ہ قرآن پڑھے تو تم خاموش رہو۔غرض نماز میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایساطریق رکھاہے کہ بعض جگہ لوگوں کوکلیتًہ امام کے تابع کردیاہے۔امام کہتاہے اللہ اکبر تومقتدی بھی کہتاہے اللہ اکبر۔امام رکوع میں جاتاہے۔تومقتدی بھی رکوع میں