تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 609

پس درحقیقت یہ بھی ایک شاعر ہے کوئی روحانی آدمی نہیں۔اللہ تعالیٰ زیر تفسیر آیات میں کفار کے اس ادّعاکو بھی باطل ثابت کرتاہے۔اورفرماتا ہے کہ تمہارایہ خیال بھی کلّی طورپر غلط ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ شعراء پر ایسے لوگ ہی گرویدہ ہوتے ہیں جن کا تقویٰ اور روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔چونکہ شعراء اپنے شعروں میں عموماً عشق اور محبتِ نفسانیہ اورشہوانیہ کا ذکر کرتے ہیں۔اس لئے ایسے ہی لوگ ان کے پیچھے چلتے ہیں جو خود بھی تقویٰ سے دور ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بعض آوارہ نوجوانوں کو ان کے سینکڑوں اشعار یاد ہوتے ہیں اوربعض شاعروں کی غزلیں رنڈیا ںگاتی ہیں کیونکہ ان میں خدااوراس کے رسول کا کہیں ذکر نہیں ہوتا بلکہ عموماً ان کے ذریعہ نوجوانوں کے شہوانی جذبات کو تحریک دی جاتی ہے اورواعظ اور ناصح پر پھبتیاں اڑائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی ایسے ہی لوگوں میں مقبولیت ہوتی ہے جن کاروحانیت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔مگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین توایسے ہیں جنہوں نے اپنی صداقت اوردیانت اور عفت اورپاکیزگی کا ایک بے مثال نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کررکھا ہے۔ان کی راتیں قیام وسجود میں۔اوران کے دن ذکر الٰہی اوراعلاء کلمئہ اسلام میں بسر ہوتے ہیں۔پھر تم یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ جس مقدس انسان کا دامن چھو کر ان کے اند ر ایسی پاکیزگی پیداہوئی ہے و ہ تمہارے بدعمل شاعروں کی طرح ایک ایساانسان ہے جو جذبات کو بھڑکا کر لوگوںکو اپنے ارد گرد جمع کررہاہے۔اس کی جماعت کی پاکیزگی اوران کا تقویٰ و طہارت میں بے مثال نمونہ قائم کرنا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہار ایہ ادّعا بالکل باطل ہے۔اور تم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام سمجھنے میں سخت غلطی کھائی ہے۔پھر فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ اَنَّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھِیْمُوْنَ۔کیاتم نہیں دیکھتے کہ شاعر مختلف طبائع کو خوش کرنے کے لئے کبھی اِدھر کی بات کردیتے ہیں کبھی اُدھر کی۔ان کے سامنے کوئی خاص مقصد اورمدّعانہیں ہوتا بلکہ جو چیز بھی ان کے ذہن میں آجائے اسی کے متعلق وہ کچھ نہ کچھ کہنا شروع کردیتے ہیں۔چنانچہ شاعروں کی کوئی غزل لے لو فِيْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَ کاتمہیں ان کی ہرغزل میںنظارہ نظر آجائے گا۔ایک شعر میں تولکھا ہوگا۔میں مر گیا۔میرامعشوق مجھ سے بے وفائی کرتاہے۔اورمیں اس کے ہجر میں اس کی بے التفاتی کی وجہ سے جاں بلب ہوں۔مگرساتھ ہی اگلے شعر میں یہ لکھا ہوتاہے کہ مجھے اپنے معشوق کاوصال نصیب ہوا۔میں جی اٹھا اورمیں زندہ ہوگیا۔ساری غزل کا ایک شعر بھی دوسرے شعر سے جوڑ نہیں رکھتا۔ایک شعر میں وہ کچھ اَور بیان کررہے ہوتے ہیں اور دوسرے شعر میں وہ کہیں اَور نکل جاتے ہیں۔ایک شعر میں تووہ کہتے ہیں۔میں محبوب سے ملنے کی تیار ی کررہاہوں۔اور دوسرے میں