تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 610
ہیں ہائے مراجارہاہوں۔غرض ان کی غزلوں کا ہرشعر دوسرے سے متناقض ہوتاہے اوران کی باتوں کا کو ئی سرپیر ہی نہیں ہوتا۔کبھی ادھر کی کہتے ہیں کبھی اُدھر کی۔کبھی کہتے ہیں میں اپنے محبوب کے عشق میں مرگیا حالانکہ وہ زندہ اپنے شعر سنارہے ہوتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں میں اپنے معشوق کے عشق میں سرگردان ہو ں۔حالانکہ وہ اچھے بھلے دنیا کے کام کررہے ہوتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں معشوق ہروقت ہمارے دل میں ہے اوریہ بالکل جھوٹ ہوتاہے۔کبھی کہتے ہیں کہ میں اپنے محبوب کے لئے خون کے آنسو پی رہاہوں۔حالانکہ وہ آرام سے زندگی بسرکررہے ہوتے ہیں۔نہ مر رہے ہوتے ہیں نہ خون کے آنسو پی رہے ہوتے ہیں۔ان کا مطلب صرف اتنا ہوتاہے کہ لوگوں کے جذبات کو ابھاراجائے چاہے وہ ابھارنا اچھے رنگ میں ہویابرے رنگ میں۔کبھی وہ خوشی کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی غمی کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فِيْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَ یعنی وہ ہرجنگل میں اورہروادی میں سرگردان پھرتے ہیں۔ان کو کسی جگہ بھی جذبات کے ابھار نے کاسامان مل جائے چاہے کہیں سے ملے لے لیتے ہیں۔وہ عاشقوںکوبھی خوش کرتے ہیں اورمعشوقوںکوبھی۔وہ غریبوں کو بھی خوش کرتے ہیں اورامیروں کو بھی۔و ہ مظلوموں کوبھی خو ش کرتے ہیں اورظالموں کوبھی۔وہ غالب کو بھی خو ش کرتے ہیں اورمغلوب کو بھی۔ان کو توہرکسی کی خوشی مطلوب ہوتی ہے چاہے ان کو اپنے شعروں میں کتنا بھی جھوٹ کیوں نہ بولنا پڑے۔وہ چاہتے ہیں کہ کوئی غریب ہمارے شعر پڑھے یاامیر۔ظالم پڑھے یامظلوم۔عاشق پڑھے یا معشوق،غالب پڑھے یا مغلو ب سب کے سب خوش ہوجائیں چاہے ان کے اشعارحقیقت سے کتنے ہی دور ہوں۔پس شعراء کامقصد اورمدعایہی ہو تاہے کہ ہر خاص و عام ان سے خو ش ہو جائے اوران کے شعروںکی داد دے۔چنانچہ کبھی وہ کسی امیر کی تعریف کرنے لگ جاتے ہیں اورمقصد یہ ہوتاہے کہ کچھ روپے مل جائیں یاکوئی وظیفہ مقرر ہوجائے ورنہ اس کی ذات سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔لطیفہ مشہور ہے کہ ایک شخص نے جو سخت بھوکاتھا ایک دفعہ چند لوگوںکو جو اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہیں جاتے دیکھا تواس نے خیال کیا کہ یہ غالباً دعوت پر جارہے ہیں میں بھی ان کے ساتھ شامل ہوجائوں۔جب یہ کھاناکھانے لگیں گے تومیں بھی وہیں سے کھاناکھالوں گا۔چنانچہ وہ ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔جاتے جاتے وہ بادشاہ کے دربار میں جاپہنچے اورانہوں نے اس کی تعریف میں قصائد پڑھنےشروع کردیئے۔تب اسے پتہ لگاکہ یہ تو شاعر ہیں اوراپنے اپنے قصائد سنانے آئے ہیں۔چنانچہ ہر شاعر نے اپنی اپنی بار ی پر اٹھ کر قصیدہ سناناشروع کردیا۔یہ اب سخت حیران ہواکہ میں کیا کروں۔شعر کہنے کی اس میں قابلیت نہیں تھی۔مگر طبیعت لطیفہ سنج تھی۔جب سب شاعر اپنے اپنے قصائد سناچکے اوربادشاہ سے انعام لے کر گھروں کوروانہ ہوگئے توبادشاہ اس سے مخاطب ہوااورکہنے لگا۔اب آپ قصیدہ شروع