تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 608
انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا کا (اپنے شعروں میں)کثرت سے ذکرکرتے ہیں اور(اگر ہجو کرتے ہیں تو ابتداء نہیں کرتے بلکہ)مظلوم ہونے اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَؒ۰۰۲۲۸ کے بعد (جائز)بدلہ لیتے ہیں اوروہ لوگ جو ظالم ہیں ضرور جان لیں گے کہ کس مقام کی طرف ان کو لوٹ کر جاناہوگا۔حلّ لُغَات۔یَھِیْمُوْنَ۔یَھِیْمُوْنَ ھَامَ سے مضارع جمع مذکرغائب کاصیغہ ہے اورھَامَ عَلٰی وَجْھِہٖ کے معنے ہیں ذَھَبَ مِنَ الْعِشْقِ اَوْ غَیْرِہٖ لَایَدْرِیْ اَیْنَ یَتَوَجَّہُ کہ اپنے عشق یا کسی اورمقصد کی خاطرادھر ادھر گھومتا پھرااور اس کومعلوم نہ ہواکہ وہ کدھر جارہاہے (اقرب) پس یَھِیْمُوْنَ کے معنے ہوں گے وہ سرگردان پھرتے ہیں۔اِنْتَصَرُوْا۔اِنْتَصَرُوْا اِنْتَصَرَ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اِنْتَصَرَ مِنْہُ کے معنے ہیں اِنْتَقَمَ مِنْہُ اس سے بدلہ لیا۔اورجب اِنْتَصَرَ عَلَیْہِ کہیں تو معنے ہوتے ہیں اِسْتَظْھَرَ۔اس پر غالب آگیا۔وَامْتَنَعَ مِنْ ظُلْمِہٖ۔اس کے ظلم سے محفوظ ہوگیا۔(اقرب)پس اِنْتَصَرُوْا کے معنے ہیں۔وہ انتقام لیتے ہیں۔تفسیر۔کفار مکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سن کر اپنے جن خیالات کااظہار کیاکرتے تھے قرآن کریم نے ان کا مختلف مقامات میں ذکر کیا ہے۔اوربتایا ہے کہ وہ کبھی آپ کو مجنون کہنے لگ جاتے تھے۔کبھی کہتے کہ اسے پریشان خوابیں آتی ہیں۔جن کی وجہ سے یہ ایسا دعویٰ کربیٹھا ہے۔کبھی کہتے یہ ساحر ہے۔کبھی کہتے کہ یہ خود تو نیک بخت ہے۔لیکن کسی اورنے اس پرجادو کردیاہے۔گویا یہ ساحر نہیں بلکہ مسحو رہے۔کبھی کہتے یہ کاہن ہے۔کبھی کہتے کہ اسے کو ئی اورشخص باتیں سکھا دیتاہے یہ کلام اس کااپنا نہیں۔کبھی کہتے کہ اس کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے کبھی کہتے یہ مفتری اورکذاب ہے اور کبھی کہتے کہ یہ شاعر ہے۔چنانچہ سورئہ انبیاء میں اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض اعتراضات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ۔(الانبیاء :۶) یعنی مخالف کہتے ہیں کہ یہ کلام تو پریشان خوابیں ہیں بلکہ پریشان خوابیں بھی نہیں اس نے دیدہ ودانستہ یہ باتیں اپنے پاس سے بنالی ہیں بلکہ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ایک شاعرانہ مزاج رکھنے والا آدمی ہے جس کے دماغ میں طرح طرح کے خیالات اٹھتے رہتے ہیں اورجس طرح مشہور اورقادرالکلام شعراء کے اشعار میں بڑی بھاری فصاحت و بلاغت اوربلند پروازی پائی جاتی ہے۔اسی طرح اس کاکلام بھی شاعرانہ فصاحت و بلاغت کاحامل ہے۔