تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 606
کیونکہ قرآن کریم کی روسے ایسانہیں ہوسکتا۔جیسا کہ اسی رکوع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اِنَّھُمْ عَنِ السَّمْعَ لَمَعْزُوْلُوْنَ(الشعراء:۲۱۳)یعنی شیطان آسمانی باتوں کے سننے سے دوررکھے گئے ہیں۔اسی طرح ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَمْ لَھُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْہِ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُھُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ(طور:۳۹)یعنی کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس کے ذریعہ وہ آسمان پر جاکر خدا تعالیٰ کی باتیں سن سکتے ہیں۔اگر ان میں کوئی اس امر کامدعی ہے کہ وہ آسمان پرگیاتھا۔اوراس نے خدا تعالیٰ کی باتیں سنی تھیں تووہ اپنے دعوے کاثبوت پیش کرے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ آسمان کی باتیں سننا توالگ رہا وہاں تک کسی کے جانے کی اہلیت بھی قرآن کریم نے تسلیم نہیں کی۔اورجب یہ حقیقت ہے تو یُلْقُوْنَ السَّمْعَ کے یہ معنے کرنے کس طرح جائز ہوسکتے ہیں کہ وہ آسمان کی باتیں سننے کے لئے اپنے کان لگائے رکھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ آسمان کی باتیں سننے کے معنے یہ ہیں کہ وہ مومن انسانوں سے خداتعالی کی باتیں سنتے ہیں۔لیکن ان میں جھو ٹ ملا کر قرآن کریم کو بدنام کرنے کے لئے لوگوں میں مشہور کردیتے ہیں اوراس طرح ان کا جھوٹ لوگوں پر واضح ہو جاتا ہے۔پس اس کے یہ معنے نہیں کہ شیطان آسمان پر جاکر ملاء اعلیٰ اورجبریلؑ اورعرش کی باتوں کوسن لیتا ہے اورپھر وہ زمین پر آجاتاہے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جولوگ شیطان کے مثیل ہوتے ہیں اورجنہوں نے ابلیسی جامہ زیبِ تن کیاہواہوتاہے۔وہ آسمانی باتوںکو ایسے رنگ میں بگاڑ کر دنیاکے سامنے پیش کرتے ہیں کہ ایک فتنہ برپا ہو جاتا ہے اور کئی لوگ ان کے فریب میں آجاتے ہیں۔گویا براہ راست کلام الٰہی کے سننے سے تووہ محروم ہی ہوتے ہیں۔آسمانی کتابوں سے وہ جوکچھ آسمانی باتیں حاصل کرتے ہیں ان میں بھی اپنی عادت کے مطابق اپنے پاس سے جھوٹ ملادیتے ہیں۔اوراس طرح لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہی حقیقت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی بیان فرمائی ہے کہ وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا(الانعام :۱۱۳) یعنی اے ہمارے رسول !جس طرح تیرے زمانہ میں ہورہاہے۔اسی طرح ہم نے ہرنبی کے زمانہ میں انسان شیطانوں اورجن شیطانوں کو چھوڑ رکھاتھا او روہ ایک دوسرے کودھوکا دینے کے لئے جھوٹی باتیں سناتے تھے۔یہ آیت بھی بتاتی ہے کہ انبیاء کے دشمن جوبڑے لوگوں میں سے بھی ہوتے ہیں اورعوام الناس میں سے بھی ہوتے ہیں۔وہ ایک دوسرے کو غیب کی باتیں نہیں بتاتے بلکہ جھوٹی باتیں بتاتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو مسلمان علماء نے قرآن کریم کی تفاسیرلکھی ہیں۔اور وہیریؔ اوربعض دوسرے مستشرقین نے بھی قرآن کریم کی تفاسیر لکھی ہیں۔لیکن عیسائی پادریوں نے اپنی تفاسیر میں اسلام کو بدنام