تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 607
کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔پس آسمانی باتیں سننے کے لئے کان تومومن بھی رکھتے ہیں اورکافر بھی۔مگرمومن تواس لئے کان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کوسنیں اوراس پر عمل کریں۔اورکفار اس لئے رکھتے ہیں کہ وہ اس میں جھوٹ ملاکر لوگوںکو اورزیادہ گمراہ کریں اورانہیں خدااور اس کے رسول سے دوررکھنے کی کوشش کریں۔پھر فرماتا ہے۔وَاَکْثَرُھُمْ کٰذِبُوْنَ۔ان میں سے اکثرجھوٹے ہوتے ہیں۔اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اس آیت میں پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ شیطان ہرجھوٹے گنہگار پرناز ل ہوتے ہیں اوریہاں فرماتا ہے کہ اَکْثَرُھُمْ کٰذِبُوْنَ۔ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔جب اکثر جھوٹے ہوتے ہیں تومعلوم ہواکہ سارے کے سارے جھوٹے نہیں ہوتے حالانکہ كُلُّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ کہہ کر ان میں سے ہرایک کو بلااستثناء جھوٹا کہاگیاتھا۔سویاد رکھناچاہیے کہ اَکْثَرُھُمْ کے الفاظ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ کے متبعین کے لئے آئے ہیں یعنی اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ کے متبعین میں سے اکثرجھوٹے ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ افَّاکٍ اَثِیْم کے متبعین سارے کے سارے جھوٹے ہوں۔ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض غلطی خوردہ ہوں اوروہ اپنے لیڈروں کو سچا سمجھ کر ان کے پیچھے چل رہے ہوں۔پس چونکہ دنیا میں اس قسم کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جوجھوٹ کو سچ سمجھ کراختیار کرتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان کے تما م متبعین جھوٹے اورکذاب ہوتے ہیں۔بلکہ فرمایا کہ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ہاں ایک قلیل تعداد غلطی خوردہ لوگوں کی بھی ہوتی ہے۔وَ الشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ۰۰۲۲۵اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِيْ كُلِّ وَادٍ اورشعراء کی جماعت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے پیچھے چلنے والے گمراہ ہوتے ہیں۔(اے مخاطب)کیا تیری سمجھ میں يَّهِيْمُوْنَۙ۰۰۲۲۶وَ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَۙ۰۰۲۲۷اِلَّا (اب تک)نہیں آیا کہ وہ (یعنی شعراء)توہروادی میں بے مقصود کے پھرتے ہیں۔اوروہ ایسی باتیں کہتے ہیں الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ جو کرتے نہیں۔سوائے (شاعروں میں سے )مومنوںاورنیک عمل کرنے والوں کے اوران کے جو اللہ(تعالیٰ)