تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 605
شیطان کو موقعہ ملتاہے اور ہلاک کرناچاہتاہے۔بلکہ اپنا مدّعااورمقصود ہمیشہ یہ ہوناچاہیے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق تزکیہ نفس حاصل ہو اور اس کی مرضی کے موافق تقویٰ حاصل ہو۔اور کچھ ایسے اعمالِ حسنہ میسر آجاویں کہ وہ راضی ہوجائے۔پس جس وقت وہ راضی ہوگا تب اس وقت ایسے شخص کواپنے مکالمات سے مشرف کرنا اگر اس کی حکمت اورمصلحت تقاضاکرے گی تووہ خود عطاکردے گا۔اصل مقصود ا س کو ہرگز نہیں ٹھہراناچاہیے کہ یہی ہلاکت کی جڑ ہے۔بلکہ اصل مقصود یہی ہوناچاہیے کہ قرآن شریف کی تعلیم کے موافق احکام الٰہی پر پابندی نصیب ہو اورتزکیہ نفس حاصل ہو۔اورخدا تعالیٰ کی محبت اورعظمت دل میں بیٹھ جائے اورگناہ سے نفرت ہو۔‘‘ (الحکم ۲۴؍نومبر ۱۹۰۷ ء ص ۷) اسی طرح فرماتے ہیں : ’’ وہ لو گ جو اپنے نفس میں پوری پاکیزگی نہیں رکھتے اورپھر خوابوں کی خواہش رکھتے ہیں اورالہامات کی طرف اپنا دل لگاتے ہیں ان کو حدیث النفس اوراضغاث احلام کے سوائے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۰۶ء مندرجہ اخبار بدر ۱۰؍جولائی ۱۹۰۷ء ص ۱۶) اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت تھی کہ آپ ؐپر کلام الٰہی نازل ہواتوآپ گھبراہٹ کی حالت میں اپنے گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہؓسے فرمایا کہ لَقَدْ خَشِیْتُ عَلیٰ نَفْسِیْ مجھے تواپنے نفس کے متعلق ڈرپیداہوگیاہے کہ نہ معلوم میں اس ذمہ واری کو ادابھی کرسکتاہوں یا نہیں۔لیکن جوجھوٹے اورشیاطین کی پیروی کرنےوالے لوگ ہوتے ہیں ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ رمل اورنجوم کے ذریعہ اوراسی طرح اَور کئی قسم کے ذرائع سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کی را ت دن کوشش کرتے رہتے ہیں تاکہ لو گ ان کی بزرگی تسلیم کریں اور انہیں اپنا ملجاء و ماویٰ سمجھنے لگ جائیں۔یُلْقُوْنَ السَّمْعَ کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ شیطان کو شش توکرتے ہیں کہ خدائی باتوں کو سنیں۔لیکن ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں وہ جھوٹ کو چھو ڑنہیں سکتے وہ خدا کی سنی ہوئی باتوں میں جھوٹ ملادیتے ہیں۔اوراس طرح ان کافریب کھل جاتاہے یعنی جب وہ مسلمانوں سے قرآن کریم سنتے ہیں تواس میں غلط باتیں ملا کر لوگوںمیں مشہور کردیتے ہیں اورکہنے لگ جاتے ہیں کہ مسلمانوں کے قرآن میں یہ یہ باتیں بیان ہوئی ہیں۔حالانکہ وہ بالکل جھوٹ ہوتاہے۔اس کایہ مطلب نہیں جیساکہ مفسرین نے لکھا ہے کہ شیاطین آسمان پر جاکر خدا تعالیٰ کی وحی کومعلوم کرلیتے ہیں