تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 57

کا باغ اُجڑے وہ ضرور اس کی حفاظت کرےگا۔چنانچہ آسمان سے اللہ تعالیٰ مسیح موعود ؑ کی حفاظت کے لئے اُترا اور باوجود اس کے کہ سب مولویوں نے اکٹھے ہو کر حملہ کیا۔اللہ تعالیٰ سینہ سپر ہو کر کھڑا ہوگیا اور اُس نے کہا کہ میں محمدؐر سول اللہ کے باغ کو نہیں اُجڑ نے دوںگا۔چنانچہ اُس نے تمام مخالفین کے حملوں کو ناکام کر دیا۔غرض بڑی برکت والا ہے وہ خدا جس نے مسیح موعود ؑ جیسا غلام محمد ؐرسول اللہ کو دیا۔جس نے محمدؐرسول اللہ کا باغ جب اُجڑ کے کھیتی بننے لگا تھا تو پھر اُس کو ایک ہرے بھرے باغ کی شکل میں تبدیل کر دیا اور اس کے رکھوالوں کو دنیا کے کناروں تک پھیلا دیا تاکہ وہ ہر ملک میں جائیں۔ہر قوم میں جائیں اور ہر جگہ پر جا کر وہاں سے عیسیٰ ؑ کے باغ کے پودوں کو نکال نکا ل کر محمد ؐرسول اللہ کے باغ میں لگائیں۔اسی طرح موسیٰ ؑ کے پودوں کو اکھیڑاکھیڑ کے محمد ؐرسول اللہ کے باغ میں لگائیں۔یہاں تک کہ دنیا کے چپّے چپّے میں محمد ؐرسول اللہ کے باغ لگ جائیں اور اس کا نتیجہ یہ ہو کہ بنی اسرائیل جو پہلے زمانہ میں مسلمان نہیں ہوئے اس آخری موعود کے ذریعہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور یہودیت اور عیسائیت کا جھگڑا ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے اور صرف اسلام یا محمدیت ہی باقی رہے۔پھر فرماتا ہے۔وَیَجْعَلْ لَّکَ قُصُوْرًا۔اللہ تعالیٰ تجھے ایک نہیں بلکہ بہت سے قصر عطا فرما ئےگا۔یعنی ایسے شاگرد تجھے ملیں گے جو اسلام کو دشمنوں کے حملوں سے بچاتے رہیں گے۔اور اُس کے حُسن کو دنیا پر ظاہر کر تے رہیں گے تاریخ میں لکھا ہے کہ جب حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فوت ہوئے تو ایک مجذوب اُن کے جنازہ پر آیا اور یہ شعر پڑھ کر رونے لگ گیا کہ ؂ وَا اَسَفَا عَلیٰ فِرَاقِ قَوْمٖ ھُمُ الْمَصَابِیْحُ وَالْحُصُوْنُ وَالْمُدْنُ وَالْمُزْنُ وَالرَّوَاسِی وَالْخَیْرُ وَالْأَ مْنُ وَالسُّکُوْنُ لَمْ یَتَغَیَّرْ لَنَا اللَّیَالِی حَتّٰی تَوَفَّا ھُمُ الْمَنُوْنُ فَکُلُّ جَـمْرٍ لَنَا قُلُوْبٌ وَکُلُّ مَآئٍ لَنَا عُیُوْنٌ (تاریخ بغداد للخطیب بغدادی ذکر من اسمعہ الجنید) یعنی افسوس ہے کہ موت نے ہم سے وہ لوگ جدا کر دئیے جو تاریکیوں میں ہمارے لئے شمع ہدایت تھے اور مصیبتوں میں ہمارے لئے قلعوں کا کام دیتے تھے جو فیوض اور برکات کے جامع ہونے کے لحاظ سے ایک شہر کی حیثیت رکھتے تھے اور خدا تعالیٰ کے انوار اور اس کے روحانی انعامات کی ایک بارش تھے۔وہ عزائم کی بلندی اور حوادث کے تھپیڑوں کا مقابلہ کرنے میں ایک پہاڑ کی طرح تھے۔اور دنیاکے لئے سراسر خیر اور امن اور سکون کا