تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 56

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں آکر دینا شروع کیا۔اس سے پہلے وہ مکہ کے ایک نمبردار کا بیٹا تھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں لگنے کے بعد روم اور کسریٰ کے بادشاہ اس کے سائے میں بیٹھنے لگ گئے۔پھر اس کے علاوہ آپؐ کے باغ کے کچھ درخت وہ تھے جو براہِ راست آپؐ نے لگائے۔جیسے ابو بکر ؓ ، عمر ؓ ، عثمان ؓ اورعلی ؓ۔حضرت ابوبکر ؓ یہ لوگ ایک کچی کوٹھری میں مدینہ میں بیٹھے ہوتے تھے لیکن قیصر اپنے محل میں ان کے نام سے کانپتا تھا۔اور کسریٰ اپنے محل میں ہزاروں میل پر بیٹھا ہوا اُن سے لرزہ بر اندام رہتا تھا۔اسی طرح محمد ی باغ میں ایک پودا حضرت حسن بصری ؒ کا لگا۔ایک پودا حضرت جنیدؒ بغدادی کا لگا۔ایک پودا حضرت سیّد عبدالقادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک شبلی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت محی الدین صاحب ابن عربی کا لگا۔ایک امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا ایک ابن قیّم رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت بہائو الدین صاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت معین الدین صاحب چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت سلیم چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت قطب الدین صاحب بختیار کا کی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت نظام الدین صاحب اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت داتا گنج بخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت مجدد صاحب سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت خواجہ میر محمد ناصر رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔ایک حضرت سید احمد صاحب بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا۔اور سب سے آخر میں باغِ محمدی کی حفاظت کرنے والے درخت مسیح موعود علیہ السلام کا پودا لگا جس کو خود مسلمانوں نے بد قسمتی سے کاٹنا چاہا۔تاکہ محمدی باغ میں دشمن گھس جائے اور اُسے تباہ کر دے۔مگر وہ پودا اس شان کا تھا کہ اُس نے کہا ؎ اے آنکہ سوئے من بدویدی بصد تبر از باغباں بتر س کہ من شاخِ مثمرم (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۸۱) یعنی اے وہ شخص جو سو سو کلہاڑے لے کر میرے کاٹنےکے لئے دوڑا چلا آرہاہے تو میرے باغبان خدا سے ڈر کہ میں وہ شاخ ہوں جس کو پھل لگے ہوئے ہیں۔اگر تو مجھے کاٹے گا تو محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا پھل کٹ جائےگا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا باغ باڑ کے بغیر رہ جائے گا۔پس تُو مجھے نہیں کاٹ رہا تو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے باغ کو اجاڑ رہا ہے اور خدا کبھی برداشت نہیں کرے گا کہ محمدؐ رسول اللہ