تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 603 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 603

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُؕ۰۰۲۲۲تَنَزَّلُ عَلٰى کیا میں تجھے بتائوں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں ؟ (شیطان)ہرجھوٹے گناہگار پر اترتے ہیں وہ اپنے کان كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍۙ۰۰۲۲۳يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ۰۰۲۲۴ (آسمان کی طرف )لگاتے ہیں اوران میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَفَّاکٍ۔اَفَّاکٌکے معنے ہیں اَلَّذِیْ یَصُدُّ النَّاسَ عَنِ الْحَقِّ بِبَاطِلِہٖ۔وہ شخص جو لوگوںکو حق و صداقت کے قبول کرنے سے اپنے جھوٹ اور باطل طریقوں سے روکتاہے۔(اقرب) تفسیر۔پہلے تواللہ تعالیٰ نے یہ بتایاتھاکہ اس قرآن کو شیاطین نے نازل نہیں کیا اورنہ ان میں طاقت تھی کہ و ہ ایساکرسکتے۔اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ کفار کے اس اعتراض کے جواب میں یہ مضمون بیان فرماتا ہے کہ شیاطین جن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں ان کی کیا علامات ہوتی ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ۔شیطان ہرجھوٹے گناہگار پر اترتاہے۔یعنی شیطان کا تعلق تو اَفَّاک اور اَثِیْم کے سواکسی سے ہوہی نہیں سکتا۔کیونکہ شیطان خود جھوٹ بولتاہے اوراس کانام شیطان ہی بتاتا ہے کہ وہ بڑاگناہگار ہوتاہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تونہ جھوٹا ہے اورنہ گناہگار پھر اس پر شیاطین کس طرح اترسکتے ہیں۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تووہ ہیں جن کی صداقت اورراستبازی کے تم بھی قائل ہو۔چنانچہ تاریخوں میں لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا توچونکہ مکہ عرب کے لوگوں کا مرکز تھا۔اورلوگ وہاں حج کرنے کے لئے آیاکرتے تھے۔اس لئے چند سربرآوردہ لو گوں نے جمع ہوکر تجویز کی کہ اس سا ل جب باہر سے لوگ حج کرنے کے لئے آئیں گے تواگرہم ان کو آپؐ کے متعلق مختلف باتیں بتائیں گے تووہ ہماری رائے کو غلط سمجھیں گے۔چاہیے کہ مل کر ایک فیصلہ کرلیا جائے اور وہی جواب انہیں دیاجائے۔اس پر ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہم کہہ دیاکریں گے کہ وہ جھوٹا ہے۔جب اس نے یہ بات کہی۔تواسی وقت ایک شدید دشمن النضر بن الحارث جو ش سے کھڑاہوگیا اورکہنے لگا۔تم یہ کیا بات کر رہے ہو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو توہم صادق اور امین کے طورپر پیش کیاکرتے تھے اس لئے اب اس کو کیسےجھوٹا کہیں گے۔وہ لوگ تواس جواب سے ہمیں ملزم قرار دیں گے اور کہیں گے کہ تم غلط بیانی سے کام لے رہے ہو(شفاء للقاضی عیاض جلد اول صفحہ ۷۹) تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راستبازی کے تم بھی قائل ہو