تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 602

فرماتا ہےتَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَ۔تیری صداقت کاایک بہت بڑاثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء تیری خبر دیتے چلے آئے ہیں۔تَقَلُّبٌ کے معنے ہوتے ہیں چلنا پھرنا۔یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تُو موسیٰ ؑ کے سامنے کشفی حالت میں موجود تھا۔تُو ابراہیمؑ کے سامنے موجود تھا۔تونوح ؑ کے سامنے موجود تھا۔توہودؑ کے سامنے موجود تھا۔توصالح ؑ کے سامنے موجود تھا۔فرماتا ہے جب تو ان تمام انبیاء کے سامنے موجود تھا جن کو یہ لوگ اپنے بزرگ تسلیم کرتے ہیں تویہ کس طرح تیرانکار کرسکتے اورکہہ سکتے ہیں کہ توراستبازوں میں سے نہیں ہے۔ابراہیمؑ نے کشفی حالت میں تجھے دیکھا۔اسی لئے اس نے تیری آمد کی خبردی۔موسیٰ ؑ نے کشفی حالت میں تجھے دیکھا اسی لئے اس نے تیری آمد کی خبر دی اورعیسیٰؑ نے تجھے دیکھا۔اسی لئے اس نے تیر ی خبر دی اوران تمام نبیوں نے بتایاکہ اس شان کاایک نبی پیدا ہونے والا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ان انکار کرنے والوں کے جتنے باپ دادے تھے۔وہ تیرے متعلق گواہیاں دے چکے ہیں کہ اس اس شان کا ایک نبی آئے گا اس کومان لینا۔اب یہ کس طرح تیرانکار کرسکتے ہیں اوراپنے بزرگوں کی شہادت کو ردّ کرسکتے ہیں۔غرض ساری سورۃ کے تسلسل کے لحاظ سے تَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَ کے معنے ہیں۔تَقَلَّبَکَ فِی الْاَنْبِیَائِ۔یعنی ابراہیمؑ نے انگلی اٹھائی اورکہایہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم)راستباز ہے۔نوح ؑ نے انگلی اٹھائی اورکہا۔یہ راستباز ہے۔موسیٰ ؑ نے انگلی اٹھائی اورکہا۔یہ راستباز ہے۔عیسیٰ ؑ نے انگلی اٹھائی اورکہا یہ راستباز ہے۔ہود ؑ،صالح ؑ،لوط ؑ اورشعیبؑ نے انگلیاں اٹھائیں اورکہا یہ راستباز ہے۔فرماتا ہے ان تما م انبیاء نے جن کو تم اپنے بزرگ تسلیم کرتے ہو خبر دی تھی کہ یہ راستباز ہے۔اب تم اس کا کس طرح انکار کرسکتے ہو؟ اس کے بعد فرماتا ہے اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ یقیناً وہ خداجس نے تجھے مبعوث کیاہے دعائوں کو قبول کرنے والا اوراپنے بندوں کے حالات کو جاننے والا ہے۔اس سے بھی ظاہر ہے کہ پہلی آیت میں نمازوں اوردعائوں کاہی ذکر ہے۔نہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ دادوں کا۔تبھی وہ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ دعائیں سننے والا اور جاننے والا ہے۔یعنی تیری اور تیرے ساتھیوں کی دعائیں تعلیم اسلام کو مکمل سے مکمل ترکرتی چلی جاتی ہیں۔اسی کی طرف دوسری جگہ قرآن کریم میں ان الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے کہ قُلْ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا (طٰہٰ:۱۱۵) یعنی توہمیشہ اللہ سے یہ دعاکرتا رہ۔کہ اے میرے رب !میرے علم کوبڑھا۔چونکہ یہ قرآنی دعا ہے۔اس لئے صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی یہ دعانہیں مانگتے تھے بلکہ سارے مسلمان مانگتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تو اس دعاسے یہ ہوتی تھی کہ اے خدا!تومجھ پر قرآن کریم کو مکمل سے مکمل ترکرکے اتار اورصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی یہ مراد ہوتی تھی کہ اے خدا !ہمارے رسول کے ذریعہ سے ہمیں کامل سے کامل تر شریعت عطافرما۔