تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 604

توپھر اسی منہ سے یہ کس طرح کہہ رہے ہوکہ اس پر شیطان کلام لے کر نازل ہوتاہے۔شیطان تو جھوٹوںاور گنہگاروں پر نازل ہواکرتاہے اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامنہ جھوٹوں والانہیں بلکہ اس کا چالیس سالہ عمل اور کردار تمہارے سامنے ہے اور تم سب جانتے ہوکہ یہ شخص تم سب میں سے زیاد ہ راستباز تھا۔پھر یہ کیسے تعجب کی بات ہے کہ تم شیطان کے نزول کے لئے اسی شخص کانام لے رہے ہو جو شیطان کاسب سے بڑادشمن ہے۔پھر فرماتا ہے یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَکْثَرُھُمْ کٰذِبُوْنَ۔وہ لوگ اپنے کان آسمان کی طرف لگائے رکھتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔آسمان کی طرف اپنے کان لگائے رکھنے کے دومعنے ہیں۔ایک معنے تویہ ہیں کہ وہ اس بات کی خواہش اور تمناکیاکرتے ہیں کہ ان پرالہام نازل ہو اورانہیں کچھ غیب کی خبریں معلوم ہوجائیں۔اوروہ اپنی اس خواہش میں اس قدربڑھ جاتے ہیں کہ آخر انہیں شیطانی الہام ہونے لگ جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ خود بھی ٹھوکر کھاتے ہیں اوردوسروں کے لئے بھی ٹھوکر کاموجب بنتے ہیں۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تویہ حالت ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ سے کہے کہ مجھ پر کلام نازل کر خداخود اس پر کلام نازل کرتاہے اوروہ نفسانی رنگ میں کبھی یہ خواہش نہیں کرتا کہ خدااس پر کلام نازل کرے تاکہ وہ دوسروں پر اپنی بڑائی ظاہر کرے۔ہاں جو کلام خود اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتاہے اس پر وہ اس کا شکر بجالاتاہے لیکن جو افّاک اوراثیم ہوتے ہیں ان کے دلوں میں ہروقت یہی خواہش موجز ن رہتی ہے کہ کسی طرح ان پر کلام نازل ہوجائے۔وہ لو گ کہیں مسمریزم کرتے ہیں۔کہیں ہیپناٹزم کاعمل کرتے ہیں اورکہیں وظیفے کرتے اورچلّے کاٹتے ہیں اوراس تمام جدوجہد سے ان کا مقصد صرف اتناہوتاہے کہ انہیں کچھ غیب کی خبریں معلوم ہوجائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام بھی فرمایاکرتے تھے کہ تم کبھی یہ خواہش نہ کرو کہ خدا تعالیٰ کاکلام تم پر نازل ہو۔ہاں اگرخدا تعالیٰ کاکلام تم پر نازل ہوتاہے اور تم کو کوئی الہام ہوتاہے تویہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔تم اگراللہ تعالیٰ سے مانگناچاہتے ہو تواس کافضل مانگو۔ہاں اگر کسی خاص موقعہ پر انسان استخار ہ کرکے خدا تعالیٰ سے ہدایت طلب کرے تواَوربات ہے۔لیکن کلام الٰہی مانگنا اوراس کی خواہش کرنا تواس بات پردلالت کرتاہے کہ اس کے مدنظر صرف اپنی بڑائی کاخیال ہے خدا تعالیٰ کے قرب کی اسے کوئی خواہش نہیں۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الہامات کی خواہش رکھنے سے اپنی جماعت کوسختی سے منع فرمایا ہے۔چنانچہ آپ اپنی جماعت کو اس بارہ میں ہدایت دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ مکالمات الٰہیہ کی اپنے نفس سے خواہش نہیں ظاہرکرنی چاہیے۔خواہش کرنے کے وقت