تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 592

اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) تُواپنے بازو ان مومنوںپر جھکا دے جوتیری اتباع کرتے ہیں۔بازو جھکانا عرب میں ایک محاورہ ہے اور یہ محاورہ جانوروں کی مناسبت سے لایا گیاہے۔یہ دیکھا گیا ہے کہ جب تک جانوروں کے بچے کمزور ہوتے ہیں۔اوراُڑنے کے قابل نہیں ہوتے یا اچھی طرح چل پھر نہیں سکتے جانوران پر اپنے پر پھیلائے رکھتے ہیں تاکہ بچوں کو چیل وغیرہ نہ لے جائے۔انسان تو اپنے بچوں کو کپڑے پہنادیتے ہیں۔مگرجانوروں کے پاس کپڑانہیں ہوتا اس لئے وہ بچوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپائے رکھتے ہیں۔مرغیوں کو دیکھو۔اگر بچوں والی مرغی کسی جگہ بیٹھی ہو اوراسے کوئی اٹھادے تواس کے پروں کے نیچے سے آٹھ دس بچے نکل کر دوڑ پڑتے ہیں۔پس وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ کے یہ معنے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تجھے چاہیے کہ تواپنی تمام ترتوجہ مومنوں کی طرف رکھ اوران کی اعلیٰ سے اعلیٰ تربیت کرنے کی کوشش کر۔اب ظاہر ہےکہ یہ تربیت کاکام اورمومنین کو اعلیٰ مدارج تک لے جانے کاکام اس قسم کا تھا کہ اس میں تکالیف او رمشکلات پیش آنے کااحتمال ہوسکتاتھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ۔الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ۔وَ تَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَ۔اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔انذار کاکام توصرف منہ سے ہوتاہے اورزبان سے ڈرادیناکافی ہوتاہے لیکن تربیت او راصلاح کاکام محنت طلب ہے اوریہ کام ایساہے جو کسی کے اپنے اختیار میں نہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک باپ چاہتاہے کہ میرابیٹاجج بن جائے مگر وہ چٹھی رسان بھی نہیں بن سکتا۔یاایک باپ چاہتاہے کہ اس کا بیٹاعالم دین بن جائے لیکن جب و ہ بڑاہوتاہے تو علم دین کی طرف اسے کوئی رغبت ہی نہیں ہوتی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایاکرتے تھے کہ ایک عالم دین جو صرف و نحو کے متبحر عالم تھے اورسارے ہندوستان میں ان کی علمیّت کا شہرہ تھا۔وہ بہت سادہ طبع تھے اوراگر انہیں کوئی ایساشخص دیکھتا جو ان کو پہلے سے نہ جانتا تووہ یہی سمجھتا کہ یہ گھاس کاٹ کر آئے ہیں۔ان کانام مولوی خان ملک صاحب تھا۔وہ کہیں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ کے متعلق خبر سن کر قادیان آئے اورآپ کی باتیں سن کر ایمان لے آئے۔واپسی پر جب وہ لاہورپہنچے تو انہوں نے ارادہ کیاکہ مولوی غلام احمد صاحب سے ملتے چلیں۔مولوی غلام احمد صاحب شاہی مسجد میں درس دیتے تھے اوروہ مولوی خان ملک صاحب کے شاگرد رہ چکے تھے۔مولوی غلام احمد صاحب بھی بہت مشہور عالم تھے اور چونکہ لاہو رکے لوگ اچھے متموّل تھے اس لئے مولوی غلام احمد صاحب کی مالی حالت بہت اچھی تھی اورسینکڑوں طالبعلم ان کے پاس پڑھتے تھے۔جب مولوی خان ملک صاحب شاہی مسجد میں پہنچے تووہاں کے طلباء کو تو اس بات کا علم نہ تھا کہ یہ کس پایہ کے آدمی ہیں انہوں نے ان کے معمولی لباس اورظاہری صورت سے یہ اندازہ لگایاکہ یہ کو ئی معمولی آدمی ہیں۔مولوی غلام احمد صاحب نے مولوی