تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 591
بازوجھکادے۔گویا ایک طرف توتُوقریبی کو ڈراتارہ کہ اگر وہ ایمان نہ لائے توسزاملے گی اوردوسری طرف وہ بعیدی جو تیرے رشتہ دار تو نہیں مگرتجھ پر ایمان لے آئے ہیں جن میں سے بعض روم کے ہیں۔بعض ایران کے ہیں۔بعض حبشہ کے ہیں۔بعض شام کے ہیں اوربعض قبائلِ عرب میں سے ہیں ان کی طرف تیری بہتر سے بہترتوجہ ہونی چاہیے۔کیونکہ تیرے اصل رشتہ دار اب وہی ہیں۔جولوگ تیرے قریبی رشتہ دار تو ہیں مگر تجھ پر ایمان نہیں لائے و ہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے تیرے رشتہ داروں میں سے نکل گئے ہیں اوراب تیرے اصل رشتہ دار وہی ہیں جو تجھ پر ایمان لائے ہیں اورتیری ہر بات کو مانتے اور تیری پیروی کرتے ہیں۔آگے فرماتا ہے۔فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّيْ بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۔یہاں عَصَوْکَ کے یہ معنے نہیں کہ اِنْ عَصَوْکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔بلکہ یہ عَصَوْکَ مخالفین کے لئے آیاہے۔قرآن کریم کایہ عام قاعدہ ہے کہ جب ایک ہی آیت میں دو باتوں کا ذکر ہو تو ان میں سے ایک فقرہ الگ گروہ کے لئے ہوتاہے اوردوسرافقرہ الگ گروہ کے لئے۔یہاں جو عَصَوْکَ کا لفظ ہے اس کے معنے ہیں اِنْ عَصَوْکَ عَشِیْرَتُکَ یعنی تیرے رشتہ دار اگر باوجودڈ رانے کے بھی نہ مانیں اوراپنے پہلے راستہ پر ہی گامزن رہیں توتُو ان کو کہہ دے اِنِّيْ بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ کہ جو کچھ تم کررہے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں۔یعنی پھر تُو ان سے قطع تعلق کرلے اورکہہ دے کہ میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔تم اس گھمنڈ میں نہ رہنا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار اور قریبی ہیں۔اس لئے اگر ہم نے اس کی بات نہ مانی تب بھی ہم نجات پا جائیں گے۔بے شک تم میرے رشتہ دار ہو۔مگر نجات رشتہ دار ی اورقرابت پر موقو ف نہیں ہے۔نجات کا راستہ صرف یہی ہے کہ تم میر ی پیروی کرو۔ورنہ تم باوجود میرے ساتھ رشتہ داری او رقرابت رکھنے کے سزاپائو گے۔یہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا طریقہ ء تبلیغ ہے۔جو قرآن کریم نے بتایاہے۔اگر مسلمان اس پر عمل کر تے تو بڑی کامیابی کامنہ دیکھتے۔جہاں جہاں اسلام پھیلے وہاں نئے ماننے والوں کو یہ سمجھاناچایئے کہ فوراً اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی طرف جائو اور تبلیغ کے علاوہ ان سے نیک سلوک بھی کرو۔اوراگر وہ تمہاری بات نہ سنیں تو ان سے ایک حد تک الگ ہو جائو تاکہ ان کے اند رندامت پیداہواور تم بھی ا ن کے بد اثر سے بچ جائو۔جیسا کہ حضرت مسیح ؑ نے بھی اپنے حواریوںکو نصیحت کی کہ ’’ اگر کو ئی تم کو قبول نہ کرے۔اور تمہاری باتیں نہ سنے تو اس گھر یا اس شہر سے باہر نکلتے وقت اپنے پائوں کی گرد جھاڑ دینا۔‘‘ (متی باب ۱۰آیت ۱۴) اس کے بعد دوسرے گروہ یعنی مومنین کے متعلق فرمایا وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔یعنی