تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 590
ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کسی چشمہ یا دریاکامنبع۔لیکن نئی نسل کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے ایک نالہ او راس سے ا گلی نسل کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے ایک چھوٹا دریا اورپھر اس سے اگلی نسل کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے ایک بڑا دریا۔اورپھر اس سے اگلی نسل کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے ایک بڑاسمندر۔چشمہ سے پانی پینے کے لئے ہمیں خود چشمہ پرجاناپڑتا ہے۔لیکن نالہ جو ش و خروش سے گھروںکے پا س سے گذرتا ہے۔اس کے پا س جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔پھر جب وہ ایک چھوٹا دریابن جاتاہے توصرف یہی نہیں کہ وہ گھروں کے پاس بہتاہے بلکہ اورزیادہ پھیل کر وہ گھروں کے قریب آجاتاہے۔پھر جب وہ چھو ٹادریا وسیع ہوتاہے تواوربھی زیاد ہ گھروں کے پاس سے گذرتاہے اوراس کے زمین میں جذب ہونے یا ریت میں غائب ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا۔وہ پہاڑیوں او رٹیلوں پر سے کودتے اورریتوں پر سے بہتے ہوئے سمندرکی طرف بڑھتاچلاجاتاہے اورجب وہ دریا سمندر بن جاتاہے۔توساری زمینوں کے کنارے اس سے ملنے لگ جاتے ہیں اورکوئی حصہء زمین بھی ایسانہیں رہتاجو اس سے متصل نہ ہو۔اسی طرح جب جماعت کے افراد کی صحیح تربیت کی جائے اوراگلی نسلوں میں قربانی اورایثار اورفدائیت کازیادہ سے زیادہ جذبہ پیدا کیاجائے تووہ دنیا میں امن کے قیام کا ایک بہت بڑاذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔دنیا کا ایٹم بم جو یورینیم دھات سے بننے والی ایک چیز ہے دنیا کی تباہی اوربربادی کاایک مہلک ہتھیا رہے لیکن افراد جماعت کی طاقت کو صحیح استعمال کرنا اور آئندہ نسل کے اندرجذبہء قربانی پیداکرنا اوراس کی صحیح تربیت کرنا قوموںکو زندہ رکھنے کا ایک حتمی اوریقینی ذریعہ ہوتاہے۔کیونکہ اس طرح ہرفرد کے دل میں یہ احساس قائم رہتاہے کہ دنیا کو فتح کرنے اوراسلام کو دوسرے ادیان پرغالب کرنے کے لئے میری ذاتی جدوجہد کی بھی ضرورت ہے۔یہی نکتہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایاہے کہ تیرے دوطریق ہونے چاہئیں۔ایک مخالفین کے ساتھ اورایک موافقین کے ساتھ۔مخالفین کے ساتھ توتیرایہ طریق ہوناچاہیے کہ تُوان کو ڈراجن میں تیرے رشتہ دار بھی شامل ہیں اورجو ایسے راستہ پر چل رہے ہیں۔جوان کے لئے نقصان دہ ہے۔لیکن اس کے علاوہ تیرادوسراکام یہ بھی ہے کہ تُو مومنوں کی تربیت کرے کیونکہ اب دنیا کی نجات انہی لوگوں کی صحیح تربیت پر منحصر ہے۔ان میں سے کئی ایسے ہیں جوتیرے رشتہ دار نہیں مگر وہ تیراحکم مانتے اور تیری اطاعت کرتے ہیں۔پس تُو لوگوںکوبتادے کہ تیرے رشتہ داروں میں سے جو کوئی تیرے خلاف چلے گا اور تیری باتیں نہیں مانے گا وہ سزاپائے گا اورجو تیرارشتہ دارتونہ ہوگا مگر تیری باتوں پر ایمان لے آئے گا وہ انعام پائے گا۔یعنی تیرامنکر اگر قریبی بھی ہو گا توسزاپائے گا اورتیرامتبع اگر بعیدی بھی ہوگا توانعام پائے گا۔ایسے ایمان لانے والوں کے لئے خواہ وہ قریبی ہوں یا بعیدی تُو اپنا