تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 589
میں نے دیکھا ہے لو گ عام طور پر یہ عذر کیا کرتے ہیں کہ ہمارے بھائی یابھتیجے یا دوسرے رشتہ دار ہماری بات نہیں سنتے یاہماری تبلیغ کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ آخروہ بھی توکسی کے بھائی تھے۔وہ بھی توکسی کے بھتیجے تھے۔وہ بھی توکسی کے بھانجے تھے۔وہ بھی توکسی کے داماد یاخاوند تھے۔پھر اگرانہیںخدا تعالیٰ نے ہدایت دےدی توان کے رشتہ داروں کو کیوں ہدایت نہیں مل سکتی۔اصل بات یہ ہے کہ جماعت کے دوست اپنے رشتہ داروں اورقریبی دوستوںکو صحیح طورپر تبلیغ ہی نہیں کرتے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ان پر اثر نہ ہو۔آخر ہررشتہ دار کااپنے رشتہ دار پر اورہردوست کااپنے دوست پر اورہربھائی کا اپنے بھائی پر حق ہوتاہے۔دنیا میں کوئی بیوی ایسی نہیں ہوسکتی جویہ کہے کہ میراخاوند خواہ جہنم میں چلاجائے مجھے اس کی پرواہ نہیں اورنہ کوئی خاوند ایساہو سکتا ہے جوکہے کہ خواہ میری بیوی جہنم میں چلی جائے مجھے اس کی پرواہ نہیں۔پس خاوند کا اپنی بیوی کو یابیوی کا اپنے خاوند کو حق بات پہنچانادراصل تبلیغ کرنانہیں بلکہ اپنے فرض کو اداکرنا ہے۔اسی طرح بھائی کا اپنے بھائی کو حق پہنچانا تبلیغ کرنا نہیں کہلاسکتا بلکہ بھائی کا اپنے بھائی کوحق پہنچانا فرض ہے۔اسی طرح دوست کا اپنے دوست کو حق پہنچانا تبلیغ نہیں بلکہ اس کا فرض ہے اوراگر و ہ اپنے اس فرض کو ادانہیں کرتا تووہ دوست نہیں بلکہ دشمن سمجھاجائے گا۔اوراس کادوست بھی اسے اپناخیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ قرارد ے گا کہ اس نے اسے سچائی سے محروم رکھا۔اگر اس رنگ میں ہررشتہ دار اپنے رشتہ دار کو اورہردوست اپنے دوست کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے حق پہنچائے توتھوڑے عرصہ میں ہی لاکھوں افراد تک صداقت پہنچ سکتی ہے۔پھر فرماتا ہے وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جولوگ تیری بات مان لیا کریں ان کے ساتھ ہمیشہ نیک برتائو کر تاکہ تیرے حسن سلوک کی وجہ سے وہ اوربھی زیادہ اسلام کے گرویدہ ہوجائیں اوران کی تربیت کا ہمیشہ خیال رکھ تاکہ ان کی طاقت سے صحیح رنگ میں فائدہ اٹھایاجاسکے۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دریانکلتے اوربہتے چلے جاتے ہیں لیکن نااہل قومیں ان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے صرف اتنا نقصان اٹھاتی ہیں کہ دریا کی طغیانیوں سے ان کے دیہات غرق ہوجاتے یاان کی زمینیں بیکار اوربنجرہوجاتی ہیں یازیادہ سے زیادہ وہ لوگ اتنا فائدہ اٹھالیتے ہیں کہ دریائوں سے مچھلیاں پکڑ لیتے ہیں۔لیکن جو عقل مند اورذہین قومیں ہوتی ہیں وہ ان سے نہریں نکالتی اوربنجر زمینوں کو آباد کرتی ہیں اوراس طرح اربوں ارب روپیہ کماتی ہیں۔اسی طرح اگر افراد کی صحیح تربیت کی جائے اوران کے اند رجذبہء قربانی پیدا کیاجائے توان کی طاقت سے اتنا فائدہ اٹھایاجاسکتاہے کہ قوم ترقی کے میدان میں کہیں کی کہیں نکل جاتی ہے۔درحقیقت پرانی نسل کی مثال