تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 54
موسوی سلسلہ کے دوسرے حصہ کی بنیاد جس مسیح سے پڑی تھی وہ مستقل نبی تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ موسیٰ ؑ سے افضل ہیں اس لئے آپ ؐ کے دوسرے باغ کی بنیاد جس مسیح سے پڑے گی وہ امتی نبی ہوگا۔یعنی وہ خو د بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ہوگا اور اُس کے ماننے والے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہی ہوںگے۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو باغ عطا کئے گئے۔ایک باغ مسیح موعود کے ظہور سے پہلے زمانہ میں اور ایک باغ مسیح موعود کے ظہور کے بعد کے زمانہ میں۔پھر پہلے زمانہ میں دنیوی لحاظ سے بھی وہی باغ آپ کو ملا جو موسیٰ ؑ کی امت کو ملا تھا۔یعنی فلسطین اور کشمیر کا علاقہ اور یہ دونوں علاقے ایسے ہیں جو باغات کی کثرت کی وجہ سے مشہور ہیں۔چنانچہ ۱۹۲۴ء میں جب میں یورپ گیا تو فلسطین میں بھی گیا تھا۔میں ریل میں دمشق سے بیروت آیا۔جب ہم بیروت کے قریب پہنچے تو میں نے دیکھا کہ ریل شہر کے اندر سے گذر رہی ہے اور ہر گھر میں باغیچے لگے ہوئے ہیں۔اسی طرح دمشق میں مَیں نے دیکھا کہ گھر گھر میں نہریں جاری تھیں۔اور ہر گھر میں باغ لگا ہوا تھا۔یہی حال کشمیر کا ہے کہ وہاں چپے چپے پر باغ ہیں کچھ تو خود رُو ہیں۔اور کچھ مغل بادشاہوں نے لگائے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )کا مادی باغ کشمیر اس وقت ہندوؤں کے قبضہ میں ہے اور فلسطین یہودیوں کے قبضہ میں ہے مگر اللہ تعالیٰ یہ دونوں باغ اپنے فضل سے پھر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو واپس دلائے گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے چاہا تو یہ دونوں باغات رُوحانی طور پر بھی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مل جائیں گے یعنی اللہ تعالیٰ یہودی قوم کو بھی مسلمان بنا دےگا اور وہ محمدر سول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حلقہ بگوش ہو جائیں گے اور بجائے اس کے کہ مسلمانوں کو توپیں اور بندوقیں لے کر فلسطین پر حملہ کرنا پڑے یہودی خود آگے بڑھ کر بیت المقدس کے دروازے کھول دیں گے اور کہیں گے کہ اے مسلمانو ! ہم بھی تمہارے مسلمان بھائی ہیں۔تم خوشی سے ہمارے پاس آئو اور مسیح موسوی کی امت بھی دوبارہ فتح کی جائےگی۔اور اسلام لائےگی۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ کا ایک حصہ بن جائے گی لطیفہ یہ ہے کہ دنیا میں اور لوگ باغ لگاتے رہے لیکن وہ باغ محمدر سول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو مل گئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بڑی کوشش اور جدوجہد سے یہودی بنائے اور اُن کوفلسطین میں بسایا لیکن خدا نے محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو بنا بنایا فلسطین دے دیا۔پھر موسیٰ علیہ السلام کی قوم ہجرت کر کے کشمیر آئی اور خدا تعالیٰ نے بنا بنایا کشمیر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو دے دیا۔اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لگا لگایا باغ بھی محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو ہی مل گیا۔چنانچہ دنیا کے کناروں تک احمدی مبلغ تبلیغ کر تے اور لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھوا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا تے ہیں۔اُن میں