تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 53
نیچے نہریں بہتی ہوںگی۔یعنی وہ باغ کبھی خشک نہیں ہوںگے بلکہ ہمیشہ ہرے بھرے اور سرسبز و شاداب رہیں گے اور دیکھنے والوں کی آنکھوں کو طراوت اور اُن کے دلوں کو راحت پہنچائیں گے۔اور دنیا پر ہمیشہ کے لئے اسلام اور محمدر سو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور آپ کی حقانیت کو ظاہر کرتے رہیں گے۔چنانچہ اس بارہ میں جب قرآن کریم پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مثیل قرار دیا ہے جیسا کہ وہ سورۂ مزمل میں فرماتا ہے کہ اِنَّا اَرْسَلْنَا اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا شَاھِدًا عَلَیْکُمْ کَمَا اَرْسَلْنَا اِلیٰ فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا (المزمل :۱۶) یعنی اے مکہ والو! ہم نے تمہاری طرف اسی طرح ایک رسول تم پر نگران بنا کر بھیجا ہے جس طرح ہم نے موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل تھے اور امّتِ محمدیہ امتِ موسویہ کی مثیل ہے اور قرآن کریم کے مطالعہ سے معلو م ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دو باغ عطا فرمائے تھے جن میں سے ایک توموسوی باغ تھا اور ایک عیسوی۔موسوی قوم کو جو باغات ملے اُن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا۔كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَيْـًٔا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًا ( الکھف:۳۳،۳۴)یعنی تم ان لوگوں کے سامنے دو آدمیوں ( یعنی مسلمانوں اور مسیحی اقوام ) کی حالت بیان کرو جن میں سے ایک یعنی موسیٰ ؑ کو ہم نے انگوروں کے دو باغ عطا فرمائے۔اور انہیں ہم نے کھجوروں کے درختوں سے چاروں طرف سے گھیر لیا۔لیکن ان دو باغات کے درمیان ہم نے کچھ کھیتی بھی پیدا کی تھی۔چنانچہ موسوی باغ بھی خوب پھولاپھلا۔اور عیسوی باغ بھی خوب پھولااور پھلا۔لیکن درمیانی عرصہ میں جب کہ بخت نصر نے یہودیوں کو تباہ کر دیا اور ان کے معبد گرادئیے اور وہ انہیں قید کر کے اپنے ساتھ لے گیا اُن کی مثال ایک کھیتی کی سی ہوگئی جوغنم القوم کے چر جانے کے خطرہ میں ہوتی ہے یعنی دشمن قومیں حملہ کرکے اسے لُوٹ کھسوٹ سکتی ہیں۔یہی سلسلہ امت محمدیہ میں بھی دہرانے کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا گیاتھا۔چنانچہ آپ کو موسیٰ ؑ کا مثیل قرار دے کر اسی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ موسوی قوم کے حالات ایک رنگ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پیش آنے والے ہیں یعنی آپ کو بھی دو باغ ملیں گے۔ایک باغ تو وہ ہوگا جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت بغیر کسی اور مامور کی مدد کے دنیا کو اپنا فیض پہنچائے گی۔لیکن آخر میں جب مسلمان کمزور ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ موسوی سلسلہ کی طرح ایک محمدی مسیح ان میں بھیجے گا جس کی جماعت ایک دوسرے باغ کی حیثیت رکھے گی لیکن ہوگی وہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت اور اُس کا باغ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا باغ ہی کہلائے گا لیکن اس فرق سے کہ