تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 55
سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مَسِیْحِ مَوْعُوْد رَسُوْلُ اللّٰہِ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مسیح موعود ؑ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے امتی ہیں۔کوئی مستقل نبی نہیں بلکہ آپ کو مستقل نبی قرار دینا کفر ہے۔گویا جو درخت بھی اُن کو ملتا ہے وہ لاکر محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے چمن میں لگا دیتے ہیں۔موسیٰ ؑ کے باغ میں تو صرف ایک بڑا درخت پیدا ہو اتھا جس کا نام دائود تھا۔مگر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چمن کا ایک درخت یعنی مسیح موعود ؑ دعویٰ کرتا ہے کہ میں ہی محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے چمن کا دائود نامی درخت نہیں بلکہ مجھ سے اور بھی کئی بیج نکلنے والے ہیں جن سے بہت سے دائو د پیدا ہوںگے اور اس طرح محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چمن میں ہزاروں دائودی شجر پیدا ہو جائیں گے۔چنانچہ آپ نے فرمایا ؎ اک شجر ہوں جس کو دائودی صفت کے پھل لگے میں ہوا دائود اور جالوت ہے میرا شکار (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۳۳) یعنی میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے باغ کا ایک درخت ہوں۔جو خود ہی دائود نہیں بلکہ میرے اندر جو پھل لگ رہے ہیں وہ بھی دائودی صفت کے ہیں۔یعنی میں ہی دائود نہیں بلکہ میرے ماننے والے مریدوں میں سے بھی ہزاروں دائود پیدا ہوںگے۔اسی طرح فرمایا ؎ میں کبھی آدم ؑ کبھی موسیٰ ؑکبھی یعقوبؑ ہوں نیز ابراہیم ؑ ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۳۳) اگر موسیٰ ؑ اور عیسٰی ؑ کو بنی اسرائیل کی تعداد پر فخر ہے تو میرے ذریعے سے اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شمار نسلیں عطا فرمائےگا۔اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا باغ دنیا کے چپہ چپہ پر پھیل جائےگا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی یہی نمونہ اللہ تعالیٰ نے دکھایا اور اس نے لوگوں کے لگائے ہوئے درخت آپ ؐ کے چمن میں لا کر لگا دئیے۔چنانچہ ابوجہل کے باغ کا درخت عکرمہ ؓ وہاں سے اکھیڑ کر آپ کے باغ میں لگا دیا گیا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور دشمن ولیداور عاص بن وائل تھے۔ولید کا بیٹا خالد تھا جو ولیدکے چمن سے کاٹ کر محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے چمن میں لگا دیا گیا۔اور آج عالمِ اسلام خالد بن ولید جیسے بہادر جرنیل کے کارناموں پر فخر کرتا ہے وہ بوٹا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک شدید دشمن کا۔لیکن اُس نے پھل محمد