تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 572

مُنْذِرُوْنَ۰۰۲۰۹ذِكْرٰى ١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ۰۰۲۱۰ کہ ان کو نصیحت پہنچ جائے۔اورہم ظالم نہیں۔حلّ لُغَات۔اَلْاَعْجَمِیْنَ۔أَلْاَعْجَمِیْنَ اَلْاَعْجَمُ کی جمع ہے۔اوراَلْاَعْجَمُ کے معنے ہیں مَنْ لَا یُفْصِحُ وَلَایُبَیِّنُ کَلَامَہٗ وَاِنْ کانَ مِنَ الْعَرَبِ۔وہ شخص جو اپنے مافی الضمیر کو عربی زبان میں پوری طرح کھول کر ادانہیں کرسکتا خواہ وہ شخص عرب کے علاقہ کاہو اورعربی جانتاہو۔اسی طرح اَلْاَعْجَمُ کے معنے ہیں مَنْ لَیْسَ بَعَرَبِیٍّ وَاِنْ اَفْصَحَ بِالْعَجَمِیَّۃِ۔وہ شخص جو عرب کے علاقہ کانہ ہو اورخواہ وہ اپنی زبان خوب فصاحت سے بولتاہو لیکن اس کو بھی اعجم ہی کہیں گے (اقرب) سَلَکْنٰہُ۔سَلَکْنٰہُ سَلَکَ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے اور سَلَکَ الشَّیءَ فِی الشَّیءِ کے معنے ہیں اَدْخَلَہٗ فِیْہِ۔کسی چیز کو کسی چیز میں داخل کیا۔کَمَا تُسْلَکُ الیَدُ فِی الْجَیْبِ وَالْخَیْطُ فِیْ الْاِبْرَۃِ۔جیسے ہاتھ جیب میں داخل کیا جاتا ہے یادھاگہ سوئی میں۔(اقرب)پس سَلَکْنٰہُ کے معنے ہوں گے ہم نے اس کو داخل کیا۔مُنْظَرُوْنَ۔مُنْظَرُوْنَ مُنْظَرٌ کی جمع ہے جو اَنْظَرَ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے۔اور اَنْظَرَہٗ کے معنے ہیں اَمْھَلَہٗ اس کو مہلت دی (اقرب)پس مُنْظَرُوْنَ کے معنے ہوں گے مہلت دیئے ہوئے۔تفسیر۔اب فرماتا ہے کہ اگر ہم اس کلام کوکسی ا عجمی پر نازل کرتے اوروہ انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ پڑھ کر سناتاتویہ لو گ اس پر کبھی ایمان نہ لاتے۔لغت عرب کے لحاظ سے اَعْجَم اس شخص کو کہتے ہیں جس کاکلام فصیح نہ ہو اوراپنے مافی الضمیر کو اچھی طرح واضح نہ کرسکے۔خواہ وہ شخص عرب ہی کیوں نہ ہو اوراعجم کا لفظ ایسے شخص کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جوعربی نہ ہو۔خواہ عجمی زبان میں وہ بڑا فصیح ہو (اقرب) اس میں بتایاکہ اگر کلام کاحامل کو ئی غیر عربی شخص ہوتاتو یہ لوگ کہہ سکتے تھے کہ یہ ایک غیر قوم کا آدمی ہے ہم اس کے حالات سے واقف نہیں ہم کس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ہم کو دھوکادے رہاہے یا نہیں دے رہا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اپنی قوم کے آدمی ہیں اوریہ لو گ آپؐ کے حالات کو خوب جانتے ہیں۔پھر یہ کیوں فیصلہ نہیں کرسکتے کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا۔جس نے ساری عمر انسانوں پر جھوٹ نہیں بولاوہ خدا پر کس طرح جھوٹ بول سکتاہے۔اسی لئے ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان فرمایاکہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (یونس ع ۲)یعنی اے لوگو ! میں اپنی