تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 573
زندگی کا ایک بیشترحصہ تم میں گذار چکاہوں کیااس کو دیکھتے ہوئے تم پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے اوریہ نہیں سمجھ سکتے کہ جس شخص کی راستبازی اوردیانت کے تم آج تک قائل رہے ہو وہ اب صداقت کے خلاف اتنا بڑا قدم کس طرح اٹھاسکتاہے کہ خدا تعالیٰ پر افتراکرنے لگ جائے۔زیر تفسیر آیت میں بھی اسی نکتہ کی طرف کفار کو توجہ دلائی گئی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود عربوںمیں سے ہیں اورہیں بھی مکہ کے رہنے والے۔اگر انہوںنے کسی غیر ملک میں زندگی بسر کی ہوتی تو تم کہہ سکتے تھے کہ گویہ شخص ہماری قوم کاہے مگررہاباہر ہے۔اس لئے ہم اس کے حالات کو نہیں جانتے۔اوریقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ شخص سچاہے یاجھوٹا۔لیکن اب توتمہارے لئے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔کیونکہ ایک تومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود تمہاری قوم میں سے آئے ہیں اور دوسرے انہوںنے اپنے بچپن اور جوانی کی عمر تم میں گذاری ہے اور تم لوگ ان کے اخلاق سے اچھی طرح واقف ہو۔اور تم خود اس بات کے گواہ ہو کہ اس نے صداقت کے خلاف کبھی کو ئی قدم نہیں اٹھایا۔بلکہ اس کی صداقت اوردیانت کایہ عالم ہے کہ تم لوگ اسے اپنی قوم کا سب سے بڑاراستباز اوردیانتدار انسان قراردیتے رہے ہو۔ایسے حالات میں تم اس کو کس طرح جھوٹا قرار دے سکتے ہو۔جبکہ اس کی صداقت کے خارجی ثبو ت بھی موجود ہیں اورپرانے انبیاء کی پیشگوئیاں بھی اس پر صادق آرہی ہیں۔مگرچونکہ ان تمام شواہدکو نظرانداز کرتے ہوئے اہل عرب نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاناتھا اس لئے فرمایا۔كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ۔لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا انکار بتارہاہے کہ یہ صرف پہلی امتوںکے نقش قد م پر چل رہے ہیں۔پہلی اُمتوں نے بھی موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ اورنوح ؑ اورہود ؑ اورصالح ؑ اورلوط ؑ اورشعیبؑ کے نشانات دیکھنے کے باوجود اپنے نبیوںکاانکار کیاتھا۔اسی طرح یہ لوگ کررہے ہیں۔اوراس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ خدائی عذاب کو نہیں دیکھ لیں گے۔پھر بتایاکہ وہ عذاب توآکر رہے گا مگر فَيَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ وہ اچانک آئے گاجیسا کہ قدیم سے اللہ تعالیٰ کی سنت چلی آرہی ہے اوراسی طرح پوشیدہ بڑھتے ہوئے آئے گا کہ ان کو پتہ نہیں لگے گا۔چنانچہ دیکھ لو فتح مکہ کا واقعہ ایسا اچانک ہواکہ ابو سفیان جیسا جہاندیدہ سردار بھی حیران رہ گیا اور جب ا س نے مکہ کے اردگرد رات کی تاریکی میں دس ہزار سپاہیوں کے خیموں کے سامنے بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلے دیکھے توگھبراکر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگاکہ یہ کیاہے کیا آسمان سے اچانک کو ئی لشکر اترآیاہے۔کیونکہ عرب کی کسی قوم کااتنا بڑالشکر نہیں ہوسکتا۔اس کے ساتھیوں نے مختلف قبائل کے نام لینے شروع کردیئے کہ شاید فلاں ہومگر ابوسفیان ان کی ہربات کو ردّ کرتاچلا گیا اور کہنے لگا