تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 570
ہواکرتی ہیں۔اس آیت میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ کیا ان لوگوں کے لئے یہ نشان کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے علماء اس کوجانتے ہیں۔پس سیاقِ کلام کو مدنظر رکھتے ہوئے صاف ظاہر ہے کہ اس جگہ علماء سے وہی لوگ مراد ہیں۔جن پر زُبر نازل ہوئیں اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَآءِ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ (مکتوب امام ربانی دفتر اول حصہ چہارم ص ۳۳مکتوب نمبر ۲۳۴)اس لئے ہم اس آیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کامل یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلام کاصرف یہی مفہوم ہے کہ اَنْبِیَآءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَآءِ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ یعنی جس قسم کے نبی بنی اسرائیل میں گذرے ہیں ویسے ہی نبی میری امت میں بھی آئیں گے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ صاحب شریعت نبی میری امت میں آسکتے ہیں۔کیونکہ مشابہت کبھی تمام اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے اور کبھی چند ٍاجزاء پر۔چونکہ قرآن کریم کی دائمی حفاظت کا ذکر پہلے آچکا ہے اس لئے قرآن کریم کے بعد کسی نئی شریعت کا آنا توناممکن ہے۔پس ایسے ہی انبیاء آسکتے ہیں جوبغیر شریعت کے ہوں اورحدیث بتاتی ہے کہ اس قسم کے انبیاء کا آنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم فرمایا ہے۔ان آیات پر غور کرکے ہر شخص اندازہ لگاسکتاہے کہ اس جگہ قرآن کریم کی صداقت اوراس کی عظمت اوراس کی ضرور ت پر کیساکامل اورلطیف مضمون بیان کیاگیا ہے۔ان آیات میں بتایاگیا ہے کہ (۱)یہ وہ کتاب ہے جو خدا نے اتاری ہے۔(۲)یہ وہ کتا ب ہے جو جبریل لایاہے۔(۳)یہ وہ کتاب ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے پاک اورمقدس انسان کے دل پر اتاری گئی ہے۔(۴) یہ وہ کتاب ہے جس کی غرض گمراہوں کو ہوشیا رکرنا اوران کو آئندہ زندگی میں پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کرنا ہے (۵)یہ وہ کتاب ہے جس کا ذریعہ بیان عربی مبین ہے۔(۶)یہ وہ کتاب ہے جس کی خبر پہلی کتب میں بھی موجود ہے۔یایہ کہ اصولی تعلیم میں اس کی پہلی کتب کے ساتھ مشابہت ہے اس لئے اس کاانکار درحقیقت تمام مذاہب اور رسولوں کا انکارہے۔اوراس پر ایما ن لانا انسان کو مجموعی طورپر ان تمام برکات اورانوارسے مستفیض کرتا ہے جن انوار اوربرکات سے انفرادی طور پر پہلے صرف ایک ایک قوم مستفیض ہواکرتی تھی بلکہ ذوق ایمان رکھنے والے کے لئے تو صرف یہی ایک نشان کافی ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل بھی اپنی پیشگوئیوں میں ذکر کرتے رہے ہیں۔پھر اگر اتنے بڑے شواہد کی موجود گی میں بھی کوئی شخص اس کا انکار کرتاہے توسوائے اس کے کیاکہاجاسکتاہے کہ اس کی آنکھیں روحانی بینائی سے محروم ہوچکی ہیں۔