تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 565
ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ۔عَلٰى قَلْبِكَ یعنی چونکہ یہ وحی تیرے قلب پر نازل ہوتی ہے اس لئے تیرے اندر اس وحی کے متعلق غیر معمولی استقامت پائی جاتی ہے۔اور تُو کہتاہے کہ اگرتم سورج کو میرے دائیں اورچاند کو میرے بائیں لاکر بھی رکھ دو۔اورپھر مجھ سے کہوکہ میں خدائے واحد کی توحید کی اشاعت کرنے سے رک جائو ں تومیں ایسانہیں کروں گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی وحی میرے دل پر نازل ہوئی ہے۔اگر وہ میرے قلب پر نازل نہ ہوتی تومیں تمہاری باتوں کو بھی سنتا لیکن ا ب یہ سوال ہی باقی نہیں رہا کہ میں تمہاری بات سنوں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے میرے دل پر اپنی وحی نازل کی ہے اور میرے دل میں آہنی میخ کی طرح توحید کاعقیدہ راسخ کردیاہے۔بہرحال جیساکہ میں نے بتایاہے بعض لوگوں نے اس آیت سے دھوکہ کھایاہے اوروہ یہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ جو خیال بھی دل میں پیداہو وہ وحی ہوتاہے۔حالانکہ وحی زبان اورکان پر بھی نازل ہوتی ہے اوراس کے ساتھ ہی اس کا قلب پر بھی نزول ہوتاہے تاکہ اس کی تائید ہوجائے۔لیکن بہاء اللہ ایک طرف تو اقرارکرتے تھے کہ مجھے لفظی وحی نہیںہوتی اوردوسری طرف ان کے دل میں جوخیالات بھی پیداہوں ان کو وہ الہام قرار دےدیتے تھے۔یہی کیفیت گاندی جی کی تھی۔وہ بھی بعض دفعہ اپنے خیالات کانام الہام رکھ لیاکرتے تھے۔لیکن اس جگہ جس وحی کا ذکر ہے اس میں مقررہ الفاظ ہوتے ہیں جوتکرار کے ساتھ دہرائے جاتے ہیں اورزبان یاکان کے علاوہ انسانی قلب پر بھی جاری ہوتے ہیں اوران میں اس قدر تکرار ہوتاہے کہ بعض دفعہ آدھ آدھ گھنٹہ تک ایک ایک فقرہ کو دہرایاجاتاہے۔پھر اگر قرآن کریم میں صرف یہی آیت ہوتی کہ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ۔عَلٰى قَلْبِكَ توہمیں دھوکہ لگ سکتا تھا کہ شاید اس میں دل کے خیالات کو ہی وحی قراردیاگیاہے لیکن اس کے علاوہ بعض اورآیات بھی قرآن کریم میں آتی ہیں جن سے صراحتاً معلوم ہوتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اورآپؐ کے کان پر بھی وحی نازل ہوتی تھی اوروہ وحی معیّن الفاظ میں ہوتی تھی۔مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ۔اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ۔فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ(القیامۃ :۱۷ تا ۱۹) یعنی اے محمدؐرسول اللہ ! تُو اپنی زبان کو جلدی جلدی حرکت نہ دیاکر۔اس قرآن کو جمع کر نا بھی ہمارے ذمہ ہے اوراس کا دنیا کو سنانا بھی ہماراکام ہے۔پس جب ہم اسے پڑھ لیا کریں تواس کے بعد تُو بھی اسے پڑھ لیاکر۔یہ آیت بتاتی ہے کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی الٰہی بڑی سرعت سے نازل ہوتی تھی اس لئے آپؐ جلدی جلدی اس کلام کو اپنی زبان سے دہرانے لگتے تھے تاکہ ان الفاظ پر قابو پاسکیں اوروہ آپؐ کے دما غ میں پوری طرح محفوظ رہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کوتسلی دی کہ ایساکرنے کی ضرورت