تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 564

اس کے بعد فرماتا ہے کہ روح الامین نے یہ کلام تیرے دل پر نازل کیا ہے یعنی روح الامین کا فرض حفاظت اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وحی تیرے دل پر نازل نہ ہوجائے تاکہ اس کے نتیجہ میں تو لوگوں تک اس وحی کو عمدگی سے پہنچا دے۔اس جگہ وحی الٰہی کو قلب پر نازل کرنے کے یہ معنے ہیں کہ جس طرح کلامِ الٰہی لفظوں میں نازل ہوتا ہے اسی طرح نبی کے دل کو بھی ساتھ ساتھ تقویت دی جاتی ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کا کلام جس شخص پر نازل ہوتا ہے اسے ایک قلبی پاکیزگی اور استقامت بھی عطا کی جاتی ہے تاکہ وہ اسے دنیا میں قائم کرنے میں کامیاب ہوسکے۔پس قلب پر نازل ہونے کے یہ معنے ہیںکہ وہ صرف پیغامبر ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ کلام اس کے دل کے اندر جذب ہوجاتا ہے اوروہ اس کا جزو ہوجاتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ شرعی اور غیر شرعی یا ظلّی وحی میں ایک فرق ہوتا ہے او ر وہ فرق یہ ہے کہ ہر شرعی وحی نبی کے قلب پر بھی نازل ہوتی ہے۔چونکہ اس وحی کی متعلق یہ حکم ہوتا ہے کہ اس پر اَنَا اَوَّلُ الْمُوْمِنِیْنَ کہو۔اس لئے یہ قلب پر نازل ہوتی ہے اور جوں جوں نازل ہوتی ہے وہ ایمان کو مضبوط کرتی چلی جاتی ہے۔بعض لوگوں نے اس آیت سے ایک غلطی کھائی ہے۔خصوصاً بہائیوں کو اس سے غلطی لگی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جو خیال بھی دل میں آجائے وہ وحی ہوتا ہے حالانکہ قرآن کریم اور احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ وحی زبان پر بھی نازل ہوتی ہے۔مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ (القیامۃ :۱۸)کہ تو زبان کو جلدی جلدی حرکت نہ دیا کر۔اس کے معنے یہ ہیں کہ وحی زبان پر بھی نازل ہوتی ہے۔اصل میں یہ دوہری وحی ہوتی ہے۔یہ وحی زبان پر بھی نازل ہوتی ہے اور دل پر بھی اس کا نزول ہوتا ہے۔لیکن دوسروں کوجووحی ہوتی ہے وہ بروزی اور ظلی طورپر ہوتی ہے اوراس قسم کی ہروحی قلب پر نازل نہیں ہوتی۔وہ بعض دفعہ کان پر نازل ہوتی ہے۔مثلاً انسان ایک کلام سنتاہے۔اورکہتاہے مجھے یہ الہام ہواہے۔یااس کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوجاتے ہیں اوروہ کہتاہے مجھے الہام ہواہے یافلاں کلام میری زبان پر جاری ہواہے۔مگرتشریعی انبیاء کی جووحی ہوتی ہے یابعض اوقات ظلی اور بروزی انبیاء کی وحی بھی صرف کان اورزبان پر ہی نازل نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک ہی وقت میں کان یازبان اوراس کے ساتھ قلب پر بھی نازل ہوتی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین جگہ نازل ہوتی ہے۔ایک تووہ زبان یاکان پر نازل ہوتی ہے۔دوسرے قلب پر نازل ہوتی ہے اورتیسرے دما غ پرنازل ہوتی ہے جیسے قرآن کریم میں آتاہے کہ یہ وحی کتاب مکنون میںہے یعنی یہ وحی ایک طرف تو اس قرآ ن میں نازل کی گئی ہے۔اوردوسری طرف اسے انسانی فطرت کے اندررکھ دیاگیاہے پس تشریعی انبیاء کی وحی زبان یاکان پر نازل ہونے کے علاوہ قلب پر بھی نازل ہوتی ہے اور میخ کی طرح دل میں گڑ جاتی ہے۔یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف اشارہ کرتے