تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 551

کی زندگی میں نظر نہیں آتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں ہی یتیم رہ گئے تھے۔آپ ؐ کے والد محترم آپ ؐ کی پیدائش سے بھی پہلے اور آپؐ کی والدہ ماجدہ آپؐ کی پیدائش کے چند سال بعد ہی وفات پاگئی تھیں۔اس کے بعد کچھ عرصہ آپ ؐ کو آپؐ کے دادا حضر ت عبدالمطلب نے اپنے پاس رکھا مگر جب وہ بھی وفات پاگئے تو آپؐ اپنے چچا ابوطالب کی کفالت میں آگئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے بڑی محبت اور پیار کے ساتھ آپؐ کی پرورش کی اور ہر نازک سے نازک موقعہ پر انہوں نے آپؐ کا ساتھ دیا۔مگر آپؐ کی زندگی کا ایک واقعہ ایسا ہے جو ہمیشہ ہی میرے قلب کو مضطرب کردیا کرتا ہے۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ آپؐ کے چچا کے گھر میں جب کھانا تقسیم ہوتا تھا تو آپؐ کبھی بڑھ کر مانگا نہیں کرتے تھے باقی بچے لڑ جھگڑ کر مانگتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف خاموش کھڑے رہتے اور جب آپؐکی چچی آپؐ کو کچھ دیتی تو آپؐ لے لیتے۔خو د مانگ کر نہیں لیتے تھے (السیرۃ الحلبیۃ وفاۃ عبد المطلب و کفالۃ عمّہ ابی طالب لہ ؐ)۔بالعموم اس واقعہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقار اور آپ کی متانت کے ثبوت میں پیش کیا جاتا ہے مگرمیں تو جب بھی اس واقعہ کو پڑھتا ہوں میری طبیعت رقّت کے جذبات کے انتہائی مقام پر پہنچ جاتی ہے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ نہیں تھا بلکہ بچپن کا زمانہ تھا اورآپؐ زیادہ سے زیادہ اس وقت آٹھ نو سال کی عمر کے تھے۔اور آٹھ نو سالہ بچے کے متعلق یہ ثابت کرنا کوئی ضروری نہیں ہوتا کہ وہ بڑا باوقار تھا خواہ آئندہ چل کر وہ نبی ہی بننے والا کیوں نہ ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں اَلصَّبِیُّ صَبِیٌّ وَلَو کَانَ نَبِیًّا کہ بچہ بچہ ہی ہے خواہ آئندہ زمانہ میں وہ نبی بننے والا ہو۔میری طبیعت تو یہ واقعہ پڑھ کر اس خیال سے بے تاب ہوجاتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بچپن کی عمر میں بوجہ اپنی ذہانت اور سمجھ کے( بعض بچے جو ذہین نہیں ہوتے وہ چچی اور ماںکا فرق کوئی زیادہ نہیں سمجھتے اوروہ اسی طرح چچی سے بھی لڑ جھگڑ کر چیزیں مانگ لیتے ہیں جس طرح ماں سے مانگی جاتی ہیں مگر یہ محبت کا نتیجہ نہیںہوتا بلکہ ان کی عقل کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے ) یہ محسوس کرتے تھے کہ میں اس گھر سے بطور حق کے کچھ نہیں مانگ سکتا۔مجھ پر تو میرے چچا اور چچی کا یہ احسان ہے کہ انہوں نے محبت اور پیا ر سے مجھے اپنے پاس رکھ لیا ہے۔پس کبھی بھی اس واقعہ کو پڑھتے ہوئے میں بغیر اس کے کہ رقّت مجھ پر غلبہ نہ پالے آگے نہیں گزر سکتا۔اور میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب میں کیا جذبات پیدا ہوتے ہوں گے۔بعض دفعہ آپؐ کے چچا بھی موجو دہوتے اور چچا کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت تھی وہ ایسی تھی کہ باپ کی طرح ہی تھی۔اسی وجہ سے بعض دفعہ ابو طالب جب گھر میں آتے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عام بچوں سے الگ ایک طرف کھڑے دیکھتے اور یہ بھی دیکھتے کہ باقی بچے شور کر رہے