تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 550

اور رَجْفَۃکے لفظ میں اس ہلا دینے والے منظر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو انہیں اپنی بد اعمالی کی وجہ سے دیکھنا پڑا اور جس نے ان کی بنیادوںکو ہلا ڈالا۔چنانچہ رَجَفَ الْاِنْسَانُ کے معنے ہوتے ہیں لَمْ یَسْتَقِرَّ لِخَوْفٍ عُرِضَ لَہٗ کہ کسی خوف کی وجہ سے اس کا قرار چھینا گیا۔اور ایک جگہ آرام سے بیٹھنا اس کے لئے ناممکن ہوگیا اور رَجَفَ الرَّعْدُ کے معنے ہوتے ہیں تَرَدَّدَتْ ھَدْھَدَتُہٗ فِی السَّحَابِ (اقرب)بادلوں میں بڑے زورسے اس کی گڑگڑاہٹ کی آوازیں پیدا ہوئیں۔پس یہ الفاظ بھی اس تباہ کن بارش کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس نے اچانک ان کے قرار کو چھین لیا۔اور انہیں ایک ایسے عذاب میں مبتلا کردیا جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ہر شخص اپنے اپنے مکان میں محصور رہا۔یہاںتک کہ ان کے مکانوںکی دیواریں چھتوں سمیت ان پر آگریں اور وہ زمین کے ساتھ چمٹے کے چمٹے رہ گئے۔فرماتا ہے۔شعیب ؑ کی قوم کی اکثریت بھی ایمان سے محروم رہی اور بہت تھوڑے لوگ اپنے زمانہ کے نبی پر ایمان لائے۔مگر اے محمدؐ رسول اللہ ! اِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ تجھے کسی گھبراہٹ کی ضرورت نہیں کیونکہ تیرا رب جس نے تجھے نہایت ادنیٰ حالت سے ترقی دیتے دیتے اس عظیم الشان مقام تک پہنچایا ہے وہ بڑا غالب اور باربار رحم کرنے والا ہے۔بیشک موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ اور نوح ؑ اور ہود ؑ اور صالح ؑ اور لوطؑ اور شعیب ؑ پر ان کی قوم کی اکثریت ایمان نہیں لائی۔مگر جس طرح تیری شان ان تمام نبیوں سے نرالی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کا سلوک بھی تیرے ساتھ ان تمام نبیوں سے نرالاہے وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ تیری قوم کی اکثریت ایمان سے محروم رہے۔بلکہ ان کی شدید ترین مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ ان کی اکثریت کو اپنے دامنِ رحمت میں جگہ دے گا اور انہیں تجھ پر ایمان لانے کی سعادت سے بہرہ ور فرمائے گا۔یہی حکمت ہے جس کی بناء پر باربار اس آیت کو دہرایا گیا ہےاور بار بار رَبَّکَ کے لفظ پر زور دیا گیا ہے۔رَبَّکَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے خصوصیت سے اپنی اس غیر معمولی ربوبیت کی طر ف اشارہ فرمایا ہے جو اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی۔اور اس طرح بتایا کہ جس خدا نے بچپن سے تجھے اپنے کنار عاطفت میں رکھا اور تجھے قدم بقدم ترقی دیتے دیتے اس عالی شان مقام تک پہنچایا وہ اب تجھے کس طرح چھوڑ سکتا ہے۔وہ یقیناً تبلیغ ہدایت کے معاملہ میں بھی تجھ سے ممتاز سلوک کرے گا۔اورتیری افضلیت کو باقی تمام انبیاء پر ثابت کردے گا۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تعالیٰ نے جس غیر معمولی رنگ میں ربوبیت فرمائی اور جس طرح نہایت ادنیٰ حالت سے ترقی دیتے دیتے آپؐ کو بلندیوں کے انتہا تک پہنچادیا اس کی نظیر دنیا کے اور کسی نبی