تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 532

اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى کی تشریح انہوں نے یہ کی ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ہے صرف یہ چاہتا ہوں کہ تمہارے اندر خدا تعا لیٰ کے قرب کی محبت پیدا ہوجائے۔(قرطبی زیر آیت قل لا اسلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی۔۔۔)مگر اس میں مشکل یہ ہے کہ قربیٰ کے معنے لغت میں قرابت ِرحمی کے ہی ہوتے ہیں۔قُرب کے معنے نہیں ہوتے۔لُغت والے اَلْقُرْبَۃُ۔اَلْقُرْبُ اوراَلْقُرْبیٰ میں فرق کرتے ہیں۔گویا یہ لفظ ت ؔ کے ساتھ ی ؔ اور بغیرتؔ اور ی ؔ کے آتا ہے قرب کے معنے قُربِ مکانی کے ہوتے ہیں۔لیکن جب قُربِ مکانی نہ ہو بلکہ درجہ کا قُرب مراد ہو تو اس کے لئے عربی زبان میں قربةٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور جب نہ مکانی قرب مراد ہو اور نہ درجہ کا قرب مراد ہو بلکہ رحمی تعلقات کے لحاظ سے کسی کا قُرب مراد ہو تو اس کے لئے قُرْبیٰ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔چنانچہ اَقْرَبَ الموارد میںلکھا ہے قِیْلَ اَلْقُرْبُ فِی الْمَکَانِ وَالْقُربیٰ فِی الرِّحْمِ وَالْقُرْبَۃُ فِی الْمَنْزِلَۃِ۔پس چونکہ لغت اس میں فرق کرتی ہے اس لئے ہمیں قربیٰ کے وہی معنے کرنے پڑیں گے جو لغت کے بھی مطابق ہوں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی کوئی اعتراض پیدا کرنے کا موجب نہ ہوں اور وہ معنی یہی ہیں کہ میں تم سے ایسی محبت کا تقاضا کرتا ہوں۔جو ذی الْقُربیٰ سے کی جاتی ہے۔یعنی وہ تعلق جو ماں کا اپنے بچے سے ہوتا ہے یا بچہ کا اپنی ماں سے ہوتا ہے یاباپ کا اپنے بیٹے سے ہوتا ہے یا بیٹے کا اپنے باپ سے ہوتا ہے تم وہی تعلق میرے ساتھ پیدا کرو۔اس تعلق میں کوئی مادی خواہش نہیں ہوتی بلکہ فطری لگائو کے ساتھ ایک دوسرے سے محبت کی جاتی ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ چونکہ میں معلم ہوں اور میرا کام یہ ہے کہ تمہیں دینی تعلیم سکھائوں اس لئے ضروری ہے کہ طبعی طور پر تمہارے اندریہ احساس پایا جائے کہ تمہیں میرے پیچھے چلنا چاہیے۔پس تم ایسی ہی محبت کرو جیسے بچہ اپنی ماں سے کرتا ہے تاکہ تمہیں سوچ سوچ کر میرے احکام کی اطاعت نہ کرنی پڑے بلکہ آپ ہی آپ میرے احکام کے پیچھے چل پڑو۔گویا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبیٰ کے معنے یہ ہوئےکہ تم میرے ساتھ ویسی ہی محبت کرو جیسی بیٹا اپنے باپ سےیا بچہ اپنی ماںسے کرتاہے اور یہاں تک وہ اپنے ماں باپ کی نقل کرتاہے کہ اگر ہم غور کریں تو انسانی خد وخال اور حرکات میں بھی بیٹو ں اورباپوں اورمائوں اور لڑکیوں میں اتنی مشابہت پائی جاتی ہے کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے۔بعض دفعہ باپ کو اپنا ہاتھ کسی خاص طرز پر ہلانے کی عادت ہوتی ہے تو بیٹا بھی اسی طرز پر اپنا ہاتھ ہلانے لگ جاتا ہے یا ماں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی آنکھ کو کسی خاص طریق پر حرکت دے تواس کی بیٹی بھی اسی طریق پر آنکھ کو حرکت دینے لگ جاتی ہے۔یا اگر کسی شخص کو خاص طورپر لوچ اور لچک کے ساتھ بات کرنے کی عادت ہوتو بچے بھی اسی طرح لوچ اور لچک کے ساتھ باتیں کرتے ہیں یا باپ کے اندر اگر لکنت پائی جاتی ہو تو عام طورپر دیکھا جاتا ہے کہ بچوں میں بھی لکنت پیدا ہوجاتی