تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 533
ہے تو بچو ں میں نقل کا ایسا مادہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کو جس طرح کوئی کام کرتے دیکھتے ہیں اسی طرح خود بھی کرنے لگ جاتے ہیں پس اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُربیٰ میں اس امر کی طر ف اشارہ ہے کہ تم میرے ساتھ صرف ذہنی تعلق نہ رکھو صرف جذباتی تعلق نہ رکھو بلکہ ایسا تعلق رکھو جیسےبچہ کا اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے جس طرح وہ اپنے ماں باپ کی خود بخود نقل کرنے لگ جاتاہے اسی طرح اگر تم مجھ سے فائدہ اٹھانا چاہو تو میرے ساتھ صرف فکری تعلق نہ رکھو بلکہ ایسا تعلق رکھو کہ تم اپنے افکار اور اپنے خیالات اور اپنے اعمال میں خود بخود میری نقل کرنے لگ جائو جیسے بچہ اپنے ماں باپ کی نقل کرتاہے۔یہ چیز ایسی ہے جو واقعہ میں قابلِ تسلیم ہے کیونکہ آخرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی شخص فائدہ اٹھائے گا جو ہر کام میں طبعی طورپر آپ کی نقل کرے گا۔اگر یہ مادہ اس کے اندر نہیں ہوگا تو وہ آپؐ سے فائدہ کیا اٹھائے گا۔ان معنوں سے آپؐ کی انبیائے سابقین پر فضیلت بھی ثابت ہوجاتی ہے اوروہ اعتراض بھی واقعہ نہیں ہوتا جو بعض لوگوں کے معنے تسلیم کرنے سے آپؐ پر عائد ہوتا ہے اس آیت کے غلطی سے جو معنے کئے جاتے ہیں وہ دوسرے نبیوں کے مقابلہ میں آپ کی تنقیص کرنے والے ہیں کیونکہ باقی نبی تواپنی امتوں سے یہی کہتے رہے کہ ہم تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے مگر ان کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر یہ کہہ دیا کہ بے شک تم مجھے کوئی اجر نہ دو مگر دیکھنا میرے بچوںاور میرے رشتہ داروں کا خیال رکھ لینا۔لیکن یہ معنے جو میں نے کئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی زیادہ مکمل ہے کیونکہ پہلے انبیاء نے صرف یہی کہا کہ ہم تم سے کوئی اجرنہیں مانگتے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میں تم سے ایک اجر مانگتاہوں۔مگر وہ اجر بھی ایسا ہے جس کا تمہاری ذات کو ہی فائدہ پہنچ سکتاہے اور وہ یہ کہ تم مجھ سے ایسا تعلق رکھوجیسے بچہ اپنی ماں سے رکھتاہے تاکہ تم رات اور دن میرے اعمال کی نقل کرتے رہو جو کچھ میں کہوں اس کی تم نقل کرو۔اورجو کچھ میں کروں اس کی تم نقل کرو جس طرح ماں باپ ہندوستانی لباس پہنتے ہیں تو بچہ بھی ہندوستانی لباس پہننے لگ جاتاہے۔ماں باپ جو زبان بولتے ہیں وہی زبان بچہ بھی بولنے لگ جاتاہے ماں باپ جو حرکات کرتے ہیں وہی حرکات بچہ بھی کرنے لگ جاتا ہے اسی طرح تم میری طرف دیکھو اور میری کامل طور پر اتباع کرو۔تاکہ جو تعلیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری ہدایت کے لئے مجھے ملی ہے وہ تمہاری رگ رگ اور ریشہ ریشہ میں سرایت کرجائے۔یہ معنے ایسے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلے انبیا ء پر فضیلت اور برتری ثابت کرنے والے ہیں۔پہلے انبیاء نے اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُربیٰ نہیںکہا۔اس لحاظ سے ان کی تعلیم یقیناً اس درجہ کی نہیں تھی جس درجہ کی تعلیم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی یہ معنے