تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 531

اب ایک ہی صورت رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبیٰ کے الفاظ کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی چسپاں کیا جائے اور اس آیت کے معنے یہ کئے جائیں کہ میں تم سے کوئی دنیوی اجر نہیںمانگتا ہاں تم سےایک مطالبہ ضرور کرتا ہوں۔اور وہ یہ کہ تم میرے ساتھ روحانی تعلق پید اکرو اور اس تعلق میںایسے اعلیٰ درجہ کے ثابت قدم نکلوکہ اس کی نظیر کسی دنیوی رشتے میں نہ مل سکے اور یہ معنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے بالکل شایاں ہیں۔پس قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰىکے یہ معنے ہوئے کہ میں تم سے ایسے ہی تعلقاتِ محبت کا تقاضا کرتاہوں جیسے اعلیٰ درجہ کے قریب سے قریب رشتہ داروں کا آپس میں ہوتاہے۔گویا وہ مودّت جو قریبی رشتہ داروں میں ہوتی ہے میں تم سے ایسی مودّت کا اپنے متعلق تقاضا کرتا ہوں۔یہ وہی مضمون ہے جسے دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى(النحل: ۹۱) فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں عدل اور احسان اور ایتاء ذی القربیٰ کا حکم دیتا ہے۔ایتاء ذی القربیٰ سے اس جگہ یہی مراد ہے کہ تمہارا نیکیوں کی طرف ایسا طبعی میلان ہو جائے کہ تمہیں نیکی کا کام کرتے وقت یہ خیال ہی پیدا نہ ہو کہ تمہیں اس کے بدلہ میں کچھ ملے گا یانہیں۔گویا تمہیں وہ مقام حاصل ہوجائے جو تمام دنیوی خیالات اور نتائج اور ثمرات کو نظر انداز کردینے والا ہو۔پس اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى کے معنے یہ ہوئے کہ میں تم سے وہ محبت چاہتا ہوں جو ایک ماں اور بچہ کے درمیان ہوتی ہے۔ماں اپنے بچہ سے حسن سلوک کرتے وقت یہ خیال نہیں کرتی کہ اس کے بدلہ میں مجھے کچھ ملے گا یا نہیں بلکہ وہ ایک فطری لگاؤ کے ماتحت اس سے پیار اور محبت رکھتی ہے۔یہی حال بچے کا ہوتا ہے۔ماں کی محبت اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کی ہوئی ہوتی ہےاور وہ اس سے ایک والہانہ تعلق رکھتا ہے یہی امر اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ تم مجھ سے ایسی ہی محبت کرو جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے کرتا ہے۔بلکہ دوسری آیت میں مومنوں سے اس سے بھی بڑھ کر مطالبہ کیا گیا ہے۔اور فرمایا گیا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے انبیاء سے اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ محبت ہونی چاہیے۔پس یہ کم سے کم مطالبہ ہے جو مومنوں سے کیا گیا ہے۔اور اگر اس حد تک بھی کسی شخص کے دل میں محبت نہ پائی جائے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے دعویٔ ایمان میں جھوٹا ہے۔پس لَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى کے اصل معنے یہ ہیں کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ہاں تمہاری اصلاح اور تمہاری ترقی کے لئے یہ چاہتاہوں کہ تمہیں میرے ساتھ ویسی ہی محبت ہو جیسے ذی القربیٰ میں ہوتی ہے۔یعنی تمہیں یہ احساس ہی نہ رہے کہ اس کے بدلہ میں تمہیںملے گا کیا ؟بدلے اور اجر کا خیال تمہارے دل سے بالکل مٹ جائے۔مفسرین نے اس جگہ قربیٰ کے معنے یہ کئے ہیں کہ وہ رستہ جس سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو تا ہے اور