تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 530

کہ میرے رشتہ داروں کا خیال رکھنا اور ان سے محبت کیاکرنا۔پس یہ بات ایسی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کرنے والی اور آپؐ کے درجہ کو گھٹانے والی ہے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اِلَّا استثنیٰ ہے اور استثنیٰ جو نفی کے بعد آئے اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ پہلے جملہ میں جس چیز کی نفی کی گئی تھی اس کے حکم سے بعد میںآنے والی شئے باہر ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ میرے پاس پانچ پانچ روپے کےنوٹوں کے سو ا اور کوئی نوٹ نہیں۔تو اس کے یہ معنے ہوںگے کہ اس نے جو نوٹوں کی نفی کی تھی اس میں سے پانچ پانچ روپے کے نوٹوں پر وہ نفی اثر اندا ز نہیں۔ان معنوں کے رُو سے اگر اَلْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى کے معنے رشتہ داروں کی محبت کے کئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا مگر رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرنے کا اجر چاہتا ہوں اور اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کی سخت تنقیص ہے۔حقیقت یہ ہے کہ (۱)اگر مَوَدَّۃٌ کے معنے جسمانی رنگ میں نیک سلوک کے کئے جائیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اے لوگو! میں تم سے جسمانی طورپر نیک سلوک کی امید نہیں رکھتا مگر میرے رشتہ داروں سے جسمانی طور پر نیک سلوک کرتے رہنا اور(۲)اگر مودۃؔکے معنے روحانی تعلق کے کئے جائیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اے لوگو ! میں تم سے یہ نہیں چاہتا کہ مجھ سے روحانی تعلق رکھو صرف یہ چاہتا ہوں کہ میرے رشتہ داروں سے روحانی تعلق رکھنا۔ظاہر ہے کہ یہ دونوں معنے غلط ہیں جسمانی سلوک کے معنے کرکے یہ مراد لینا کہ میرے رشتہ داروں سے جسمانی طورپر نیک سلوک کرناتوا س لئے غلط ہے کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سوال کی نسبت ہوتی ہے اور دوسرے انبیاء سے بھی آپ ؐ کا درجہ گرجاتاہے۔اور روحانی تعلق کے معنے کرنے سے تو یہ معنے بالکل کفر کے ہوجاتے ہیں۔کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوجاتا ہے کہ مجھ سے روحانی تعلق نہ رکھو حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روحانی تعلق پیدا کرکے ہی ایمان حاصل ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے کہ جب تک یہ لوگ اپنی بیویوںاور اپنے بچوںا ور اپنے بھائیوں اور اپنے عزیزوں سے زیادہ تجھ سے پیا رنہیں کرتے اس وقت تک یہ مومن نہیں کہلا سکتے (سورئہ توبہ آیت ۲۴)۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ مجھ سے مؤدّت کرنی ضروری ہے اور ایسی ضروری ہے کہ تمہیں میری خاطر اگر اپنے ماں باپ کو چھوڑنا پڑے۔اپنی بیویوںکو چھوڑنا پڑے۔اپنے بچوں کو چھوڑنا پڑے اپنے بھائیوں کو چھوڑنا پڑے۔اپنے دوستوں کو چھوڑنا پڑے تو ان سب کو چھوڑ دو۔پس اس محبت کانہ صرف وجود ثابت ہے بلکہ قرآنِ کریم کی دوسری آیات سے اس قسم کی مؤدّت کا حکم ثابت ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ اگرتم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی محبت نہیں رکھو گے جو دوسری تمام محبتوں پر غالب ہو تو اس وقت تک تم ایمان دار نہیں کہلا سکتے۔پس یہ دونوں معنے باطل ہیں۔