تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 525

مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۱۷۵وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ نہیں آتے )ان پر برسائی جانے والی بارش بہت بری ہوتی ہے۔اس واقعہ میں یقیناً ایک بڑ انشان تھا لیکن ان الرَّحِيْمُؒ۰۰۱۷۶ (کفار) میں سے اکثر پھر بھی مومن نہ بنے۔تیرا ربّ یقیناً وہ ہے جو غالب(اور) باربار کرم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔عَجُوْزًا۔اَلْعَجُوْزُ اَلْمَرْأَۃُ الْمُسِنَّۃُ لِعَجْزِھَا عَنْ أَکْثَرِ الْاُمُوْرِ۔بڑھیا عورت۔اور بڑھیا عورت کو عجوز کا نام دینے میںیہ حکمت ہے کہ اکثر امور سر انجام دینے سے وہ عاجز ہوتی ہے۔(اقرب) غَابِرِیْنَ۔غَابِرِیْنَ غَبَرَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور غَبَرَ کے معنے ہیں۔مَکَثَ وَبَقِیَ۔ٹھہر گیا اور رہ پڑا (اقرب) نیز اَلْغِبْرُ کے معنے ہیں اَلْحِقْدُ۔کینہ (اقرب)پس غَابِر کے معنے ہوں گے۔پیچھے رہنے والا اور کینہ رکھنے والا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا کو سن کر اس کو اور اس کے تمام خاندان کو تو بچا لیا مگر اس کی بڑھیا بیوی عذاب کا شکار ہوگئی۔کیونکہ وہ غابرین میں سے تھی۔لُغت میں غِبْر کے ایک معنے اَلْحِقْدُ یعنی کینہ کے بھی لکھے ہیں (اقرب) پس غَابِرِیْن کا لفظ استعمال فرما کر اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ حضرت لوط ؑ کی بیوی ان لوگوں میں سے تھی جو حضرت لوط ؑ کی تعلیم سے کینہ اور بغض رکھتے تھے۔اور آپ کی مخالفت کے درپے رہتے تھے اس لئے جب عذاب آیا تو وہ بھی اُنہی لوگوں کے ساتھ شامل کر دی گئی۔بائیبل نے اس مقام پر یہ بیان کیا ہے کہ حضرت لوط ؑ کی بیوی بھی بچائے جانے والے لوگوں میں شامل تھی بلکہ لکھا ہے کہ فرشتوں نے اس کا اور اس کی جورو کا اور اس کی دونوں بیٹیوں کا ہاتھ پکڑ ا کیونکہ خداوند کی مہربانی اس پر ہوئی اور اسے نکال کر شہر سے باہر پہنچا دیا۔(پیدائش باب ۱۹ آیت ۱۶) مگر پھر بائیبل ہی بیان کرتی ہے کہ جاتی دفعہ اس نے پیچھے پھر کے دیکھا اور وہ نمک کا کھمبا بن گئی۔(پیدائش باب ۱۹ آیت ۲۶) اوّل تو جیتے جاگتے انسان کا محض پیچھے مڑ کر دیکھنے کی وجہ سے نمک کا کھمبا بن جانا ایک ایسا امر ہے جو بائیبل کے معتقدین کے نزدیک توممکن ہے قابلِ تسلیم ہو۔مگر کوئی اور شخص اس خوش اعتقادی کا قائل نہیں ہوسکتا۔دوسرے جب اللہ تعالیٰ کا منشاء یہی تھاکہ ان کی بیوی عذاب سے محفوظ رہے تو اسے نمک کا کھمبا کیوں بنا دیا اسی طرح جب خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس عورت نے دس بیس قدم کے بعد پھر تباہ ہونا ہے تو اسے پکڑ کر باہر نکالنے کے کیا معنے تھے؟بائیبل کے یہ متضاد بیانات بتا رہے ہیں کہ انسانی دست بُرد نے اس کی روایات کو انتہائی مخدوش بنا دیا ہے۔