تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 524
دوسری جگہ یہ خبر دی ہے کہ اَدْخَلْنٰہُ فِی رَحْمَتِنَا (الانبیاء :۷۶) ہم نے اُسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دی۔اس پر بائیبل یہ نہایت ہی گندہ اور ناپاک الزام لگاتی ہے کہ اس نے اپنی لڑکیوںسے بدکاری کی۔اور پھر ان لڑکیوں سے ناجائز بچے پید اہوئے (پیدائش باب ۱۹ آیت ۳۰تا ۳۸) مگر پھر وہی بائیبل جو ایک طرف تو حضرت لوط ؑ اور ان کی پاک دامن بیٹیوں پر بدکاری کا الزام لگاتی اور ان کے بطن سے ناجائز بچوں کی ولادت کا اشتہار دیتی ہے دوسری طرف یہ بھی لکھتی ہے کہ اس حرامکاری کے نتیجہ میں ایک بیٹا موآبؔ پیدا ہوا جو موآبیوں کا باپ بنا۔اور دوسرابیٹا بن عمی پیدا ہوا جو بنی عمون کا باپ بنا۔گویا ایک طرف تو وہ حضرت لوط ؑ اور ان کی بیٹیوں پر الزام لگاتی ہے اوردوسری طرف یہ کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان بچوں پرایسا فضل کیا کہ وہ دوبڑے بڑے خاندانوںکے بانی قرار پائے اور خدا تعالیٰ نے ان سے ایک لمبا سلسلہ نسل جاری کر دیا۔اگر حضرت لوط ؑ ایسے ہی اخلاق کے حامل ہوتے جس قسم کے اخلاق بائیبل ان کی طرف منسو ب کرتی ہے تو کیا اللہ تعالیٰ ان کی نسل کو ایسی ہی برکت دیتا جیسی بائیبل کے بیان کے مطابق انہیں دی گئی۔پس بائیبل کا اپنا بیان جو خدا تعالیٰ کی ایک فعلی شہادت پر مشتمل ہے اس کے بیان کردہ الزام کو جھوٹا قرار دے رہا ہے۔اور پھر قرآن کریم جو ایک کتاب مبین کی شکل میں نازل ہواتھا اُس نے کھلے لفظوں میں بتادیا کہ لوط ؑ ہمارے مقربین میں سے تھا اور وہ ان تمام گندے اور ناجائز افعال سے منّزہ تھا جن میں اس کی قوم گرفتا رتھی۔بلکہ وہ اللہ تعالیٰ سے بھی دعائیں کرتا رہتا تھا کہ وہ اس کی مدد کرے۔اور اسے اور اس کے اہل کو ان برائیوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔فَنَجَّيْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِيْنَۙ۰۰۱۷۱اِلَّا عَجُوْزًا فِي پس ہم نے اس کو۔اور اس کے اہل کو سب ہی کو نجات دی۔سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والوں الْغٰبِرِيْنَۚ۰۰۱۷۲ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِيْنَۚ۰۰۱۷۳وَ اَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ میں شامل ہوگئی۔پھر(لوطؑ کو نجات دینے کے بعد) سب دوسروںکو ہم نے ہلاک کردیا۔اور ہم نے مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ۰۰۱۷۴اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَ ان پر (پتھر وں کی) بارش برسائی۔اور جن کو (خدا کی طرف سے) ہوشیا رکردیا جاتا ہے (لیکن پھر بھی باز