تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 48

حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے جو تہذیب اور شرافت سے بات کرنے کے عادی تھے۔ہمارے ایک دوست جو تیز زبان تھے اور امرتسر کے رہنے والے تھے اُن کو کوئی ہندو مجسٹریٹ مل گیا۔اور کہنے لگا کیا ہے تمہارا مرزا ! تم کہتے ہووہ خدا کا مامور ہے اور یہ ہے اور وہ ہے۔ہم نے تو سنا ہے کہ وہ بادام اور پستہ اور مرغ سب چیزیں کھا لیتا ہے۔وہ کہنے لگے آپ مرزا صاحب کو چڑانےکے لئے پاخانہ کھایا کریں مجھے اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔غرض جس طرح موجودہ زمانہ میں اعلیٰ درجہ کی چیزوں کا کھانا پینا پہننا اور عطر وغیرہ لگانا بزرگی کے منافی سمجھا جاتا ہے اسی طرح اس زمانہ میں کفار نے یہ اعتراض کیا کہ یہ عجیب رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔اُن نادانوں نے یہ نہ سمجھا کہ رسول تو اپنی قوم کا راہنما ہو تا ہے۔اگر وہ کھانا نہیں کھائےگا تو اس کی امت کو یہ کیونکر پتہ لگے گا کہ کس طرح کھانا چاہیے اور کیا کیا کھانا چاہیے۔اور کن کن چیزوں کو حرام سمجھنا چاہیے۔کھانا انسانی تمدن اور معاشرت کا ایک اہم جزو ہے۔اور اس کے متعلق ایک جامع تعلیم اور کامل نمونہ کا موجود ہونا ضروری تھا۔سو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دنیاکے لئے اس بارہ میں بھی نمونہ بنایا اور آپ ؐ کے ذریعہ اُس نے وہ تعلیم دی جو آج بھی کھانے پینے کے معاملات میں بنی نوع انسان کے لئے ایک اعلیٰ درجہ کے دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے اور جس سے اغماض کر کے کوئی انسان سوسائٹی میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔بازاروں میں چلنے پھرنے کا اعتراض بھی بتاتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی شخص خدا رسیدہ ہونے کا مدعی ہو تو اس کی ضروریات کا خدا تعالیٰ کو خود متکفل ہو نا چاہیے اور عام لوگوں کی طرح اُسے سامانِ معیشت کی بہم رسانی کے لئے مادی اسباب اور وسائل کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔یہ خیال بھی ایسا ہے جو بدقسمتی سے آج کل مسلمانوں کے ایک طبقہ کے اندر پایا جاتا ہے اور وہ کہا کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ نے جنات اپنے قابو میں کئے ہوئے تھے اور وہ جب چاہتے تھے اُن کے ذریعہ بے موسم کے پھل منگوالیتے تھے۔گویا انہیں خود کوئی جدوجہد اور کوشش نہیں کرنی پڑتی تھی بلکہ کسی غیر مرئی مخلوق سے ہی وہ سب کا م لے لیا کرتے تھے۔پھر انہی خیالات کا ایک نتیجہ توکل کا وہ غلط مفہوم بھی ہے جو مسلمانوں میں پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ توکل اس بات کا نا م ہے کہ انسان اسباب سے کام نہ لے اور خدا تعالیٰ پر کامل انحصار رکھے۔غرض ایک رنگ میں یہ بھی وہی نظریہ ہے جو کفارِ مکہ کا تھا کہ خدارسیدہ وہی ہوتا ہے جو کھانے پینے کی ضروریات اور سامان معیشت کی فراہمی سے مستغنی ہو اور اس کے لئے غیب سے رزق مہیا ہو جاتا ہو۔پھر کفار نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور کہا کہ اگر خدا نے اسے دنیا کی ہدایت کے لئے بھجوایا تھا تو وہ اُس کے ساتھ کوئی فرشتہ تو اتارتا۔جس طرح مسلمان کہتے ہیں کہ مسیح ؑجب آسمان سے نازل ہوگا تو فرشتوں کے کندھوں