تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 49

پر اُس نے ہاتھ رکھا ہوا ہو گا اور اُسے دیکھتے ہی سب دنیا سمجھ جائے گی کہ مسیح ؑ آگیا اور اُس پر ایمان لے آئےگی۔پھر کہتے ہیں اگر فرشتہ نہیں اُترا تھا تو کم ازکم اس کے ساتھ کوئی خزانہ تو ہونا چاہیے تھا جسے دیکھ کر ہم بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاتے مگر یہ تو دوسروں کو کچھ دینے کی بجائے اُن سے چندے مانگتا پھرتا ہے۔ایسے رسول کو ہم کس طرح مان لیں۔افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ کفار کے منہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ باتیں نکلوا کر اُن کی غلطی واضح کی تھی پھر بھی مسلمانوں نے نہ سمجھا اور انہوں نے بھی آنے والے مسیح ؑ اور مہدی کے متعلق یہ نظریہ قائم کر لیا کہ وہ آتے ہی اس قدر مال لٹائے گا کہ کوئی شخص غریب نہیں رہے گا۔گو یا زمین کے سب خزائن اُس کے قبضہ میں ہوںگے اور وہ مال و دولت کے انبار لوگوں میں تقسیم کرتا چلا جائے گا۔پھر کفار نے کہا کہ اگر کوئی خزانہ اس پر نہیں اُترا تھا تو کم ازکم اسے کوئی باغ تو ملتا جس کے یہ پھل کھایا کرتا مگر اس کی تو یہ حالت ہے کہ مکہ اور طائف کے وہ سردار جو اس کے دشمن ہیں اُن کے پاس تو بڑے بڑے باغات ہیں اور اس کے پاس کوئی چھوٹا سا باغ بھی نہیں۔یہ دلائل اُن لوگوں کے نزدیک اتنے وزنی تھے کہ وہ ان کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ جب ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے پاس نہیں تو یہ شخص سچا کس طرح ہو گیا اور اس کے پیچھے چلنے والے ہدایت یافتہ کس طرح ہوگئے۔یہ تو اس بات کا ثبوت ہے کہ جو لوگ اسے مان رہے ہیں وہ نعوذباللہ اس کے دھوکا اور فریب میں آگئے ہیں اُن کے ان اعتراضات کا اگلی آیت میں جواب دیا گیا ہے اور بتا یا گیا ہے کہ تم ان اعتراضا ت سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کو روک نہیں سکتے۔ایک دن آنے والا ہے جب تمہارے یہ تما م اعتراضات دھرے کے دھرے رہ جائیںگے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم پر غالب آجائیںگے۔تَبٰرَكَ الَّذِيْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ بہت برکت والا ہے وہ خدا جو چاہے تو تیرے لئے ( اُن کے تجویز کردہ ) اُس باغ سے بہت بہتر باغات پیدا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ يَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا۰۰۱۱ کر دے جن (کے سایہ) میں نہریں بہتی ہوں اور تیرے لئے بڑے بڑے محل تیار کر دے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔بڑی برکت والا وہ خدا ہے جو اگر چاہے تو تجھے ان کے منہ مانگے باغ سے بہت بہتر باغات دے دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں۔اور تجھے بڑے بڑے محلات کا مالک بنا دے۔یعنی یہ تو تجھ سے ایک باغ مانگتے ہیں مگر ان نادانوں کو کیا معلوم کہ ہم نے تیرے لئے کیسے کیسے عظیم الشان باغات اور محلات مقدر کئے