تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 47

بنیاد پر اعتراض نہیں کرتے اس لئے کبھی کچھ کہہ دیتے ہیں اور کبھی کچھ۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کفار مکہ کا یہ اعتراض کرنا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے بتا رہا ہے کہ مذہب اور رُوحانیت سے کلی بے گانگی کی وجہ سے ان کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو چکا تھا کہ جن لوگوں کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے وہ کھانے پینے کی ضروریات سے مستغنی ہو کر رات دن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہی مشغول رہتے ہیں۔ہندو قوم میں بھی ہمیں یہی تخیل نظر آتا ہے چنانچہ اُن میں حضرت بدھ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ گیا کے پاس ایک بانس کے درخت کے نیچے بیٹھے اور سالہا سال بیٹھے رہے یہاں تک کہ ایک بانس کا درخت اُن کے نیچے سے نکلا اور اُن کے سر سے پار ہو گیا۔مگر محویت کی وجہ سے اُن کو یہ پتہ ہی نہ چلا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔گویا اُن کے نزدیک حضرت بدھ نے سالہا سال بغیر کچھ کھائے پیئے کے گذار دئیے۔اسی قسم کے خیالات بد قسمتی سے مسلمانوں کے ایک طبقہ میں بھی پیدا ہو گئے ہیں۔اور وہ بھی یہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ بزرگ وہی ہوتا ہے جو حد درجہ غلیظ اور گندہ ہو۔پاکیزہ اور طیب چیزیں استعمال نہ کرے۔پلائو کھانے لگے تو تھوڑا سا پاخانہ بھی اُس میں ملا لے۔بال کبھی نہ کٹوائے۔دانتوں کی کبھی صفائی نہ کرے اور یہ تو ہّم اُن میں اس قدر بڑھ گیا ہے کہ وہ مادر زاد ننگے فقیروں اور فاترالعقل انسانوں کو بھی بزرگ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔آج بھی ہزاروں مسلمان ایسے ہیں جو اس قسم کے دیوانوں کو خدا رسیدہ سمجھتے اور اکلِ حلال اور نظافت کو بزرگی کے منافی سمجھتے ہیں۔کہتے ہیں فلاں بزرگ ایک جگہ بیٹھے تو چالیس سال تک انہوں نے اپنا سر نہ اٹھایا اور زمین پر بیٹھے بیٹھے گڑھا پڑ گیا۔بانیٔ سلسلہ احمدیہ بھی چونکہ نبوت کےمدعی تھے اس لئے آپ پر بھی کھانوں کے متعلق اعتراض کیا گیا۔آپ بعض امراض کی وجہ سے مشک اور عنبر اور بادام روغن وغیرہ کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔اور یہ بات اُن لوگوں کو عجیب معلوم ہوتی تھی جو ان چیزوں کا استعمال رُوحانیت کے منافی سمجھا کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ ایک دفعہ درس دے کر مسجد اقصیٰ سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ راستہ میں ایک ہندو جو ریٹائرڈ ڈپٹی تھا اور جس کا مکان بعد میں صدر انجمن احمدیہ کے دفاترکے لئے خرید لیا گیا تھا۔بڑے ادب کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا۔مولوی صاحب میں نے ایک بات پوچھنی ہے۔آپ خفا تو نہیں ہوںگے آپ نے فرمایا۔مجھے خفا ہونے کی کیا ضرورت ہے۔آپ شوق سے دریافت فرمائیں وہ کہنے لگا۔میں نے سنا ہے کہ مرزا صاحب مشک اور عنبر اور بادام روغن اور پلائو وغیرہ بھی کھا لیتے ہیں۔کیا یہ ٹھیک ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے وہ یہ غیر متوقع جواب سن کر سخت حیران ہوا۔اور کہنے لگا کیا فقیروںکے لئے بھی یہ چیزیں جائز ہیں ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں ہمارے مذہب میں فقراءکے لئے بھی پاک چیزیں کھانے کا حکم ہے۔اس جواب سے وہ سخت حیران ہوا اور اچھا کہہ کر چلا گیا۔یہ تو