تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 511

بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ سے یہ استنباط بھی ہوسکتا ہے کہ آلات جنگ کی بعض حیرت انگیز ایجادات انہی کے زمانہ میں ہوئی ہیں۔چنانچہ جس رنگ میں انہوں نے پہاڑوں میں عمارتیں بنائی ہیں ان کو دیکھ کر بعض مؤرخین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس قوم نے بارود اور ڈائنا میٹ ایجاد کرلیا تھا۔ان معنوں کی روسے اس آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ تم ایسے ایسے سامان جنگ ایجاد کرتے ہو جو نہایت ہی مہلک ہیں اور تم ان کے ذریعہ باقی اقوام کو تباہ کرکے اپنی تہذیب اور اپنا تمدن قائم کردیتے ہو غرض بابلی تحریک میں عمارتوں کی تعمیر اور آلات جنگ کی ایجاد اوررصد گاہوں کے بنانے پر زیادہ زور تھا۔چنانچہ بابل کی حکومت کا جو بیان تورات میں آتا ہے اس سے بھی قرآنی بیان کی ہی تصدیق ہوتی ہے۔بائیبل میں آتا ہے۔’’اور انہوں نے کہا۔آئو ہم اپنے واسطے ایک شہر بناویں اور ایک برج جس کی چوٹی آسمان تک پہنچے۔اور یہاں اپنا نام کریں۔ایسا نہ ہو کہ تمام روئے زمین پر پریشان ہوجائیں۔اور خداوند اس شہر اور برج کو جسے بنی آدم بناتے تھے دیکھنے اترا اور خدا وند نے کہا۔دیکھ لوگ ایک ہیں اور ا ن سب کی ایک ہی بولی ہے۔اب وَے یہ کرنے لگے سو وے جس کام کاارادہ رکھیں گے اس سے نہ رُک سکیں گے آئو ہم اتریں اور ان کی بولی میں اختلاف ڈالیں تاکہ وے ایک دوسرے کی بات نہ سمجھیں۔‘‘ (پیدائش باب ۱۱آیت ۴تا۷) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ یہودی تاریخ کے مطابق بھی ان لوگوں کا بڑا کمال بلند و بالا عمارات بنانا تھا۔کیونکہ تورات کے اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ دنیا میں زبانوںکے اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ کسی وقت بابل کے لوگوں نے ایک بلند عمارت بنانی شرو ع کی تاکہ وہ ان کے لئے ایک نشان قرار پائے اور اس کی وجہ سے وہ پراگندگی سے بچ جائیں۔لیکن اللہ تعالیٰ ان کی پراگندگی چاہتاتھا اس لئے اس نے ان کوا س ارادہ سے باز رکھنے کےلئے ان کی زبانوں میں اختلاف ڈال دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس قوم میں سے اتحاد مٹ گیا اور ان کی طاقت ٹوٹ گئی اور وہ اس عمارت کے بنانے میں ناکام رہے۔جو وجہ اس حوالہ میں بتائی گئی ہے وہ تو محض ایک کہانی ہے لیکن اس سے یہ تاریخی شہادت ضرور معلوم ہوجاتی ہے کہ اہلِ بابل اونچی عمارتیں بنانے میں یدِطولیٰ رکھتے تھے۔اور ایسی بلند عمارتیں بناتے تھے جن کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔چنانچہ عرب میں اب بھی بعض نہایت پرانی عمارتیں ملتی ہیں جو بہت بڑی بڑی ہیں۔بلکہ سفرِ یورپ کے دوران میں عدن سے چند میل کے فاصلہ پر میںنے خود بعض بڑی بڑی پرانی