تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 510
جَبَّارِیْنَ۔جَبَّارِیْنَ جَبَّارٌ کی جمع ہے اور جَبَّارٌ کے معنے ہیں۔کُلُّ عَاتٍ مُتَمَرِّدٍ۔متکبر اور سرکش شخص۔(اقرب) تفسیر۔قوم عاد جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام مبعوث ہوئے فنِ تعمیر میں خا ص شغف رکھتی تھی کیوں کہ اس کی تہذیب کی بنیا د علم ہندسہ۔کیمسٹری اور ہیئت پرتھی۔اس تہذیب کے بانیوں کاخیال تھاکہ جس طرح خدا تعالیٰ نے مادی عالم میں سورج اور چاند اور ستارے بنائے ہیں اسی طرح انسانی ترقی کے لئے اس نظام کی نقل کرنا ضروری ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ نظامِ شمسی پر غور کرکے اور اس کے راز معلوم کرکے ان کی اتباع کرے۔جس طرح آرینؔ۔رومنؔ اور ایرانی ثقافت نے متمدن دنیا پر ایک گہرااثر ڈالا۔اور سابق نظاموںکی جگہ ایک نیا نظام قائم کردیا۔اسی طرح بابلی تحریک جس کے بانی قوم عادسے تعلق رکھنے والے تھے اس نے بھی دنیا کے کلچر اور تہذیب پر نہایت گہرااثر ڈالا۔اور گو اس تحریک کے بانی کچھ عرصہ بعد سیاسی طور پر اپنی حکومت کو کھو بیٹھے اوراس کی جگہ دوسری اقوام نے لے لی۔مگر ان کو شکست دینے والے ان کے فلسفہ سے آزاد نہ ہوسکے۔یہ تحریک چونکہ انتہائی قدیم تحریک ہے اس لئے موجودہ زمانہ میں اس کے آثار بہت کم ملتے ہیں۔لیکن جتنے آثار بھی ملتے ہیں وہ قرآنی بیانات کی صداقت اور اس کی عظمت کو روشن کردیتے ہیں۔اس تہذیب کی بنیاد قوم عادکے ہاتھوں رکھی گئی تھی اور اس کو اپنے زمانہ میں اتنی طاقت حاصل تھی کہ ان کے بعد عرب میں کسی اور قوم کو اس قسم کی طاقت حاصل نہیں ہوئی۔اس تہذیب بابلی کی علمبردار دو قومیں ہوئی ہیں۔ایک وہ جسے عادِ اولیٰ کہتے ہیں۔اور جو تہذیب بابلی کے بانی تھے اور دوسرے ثمود ؔ جو بعد میں اس تہذیب کے حامل بنے اور جو اسی عاد ؔ کی ایک دوسری شاخ تھے۔ان آیات میںا نہی پہلے عاد یعنی بانیان تہذیب بابلی کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔اور فرماتا ہے۔ہودؑ نے اپنے زمانہ کی مشہور ترین طاقت یعنی قوم عاد سے مخاطب ہوکر کہا۔کہ تم لوگ ہر پہاڑی پر شاندار عمارتیں بناتے ہو۔اور بڑی بڑی فیکٹریاں اور کمیسٹری کے مرکز تیار کرتے ہواور خیال کرتے ہو کہ تم ہمیشہ قائم رہو گے۔جیسے یورپ اور روس کے لوگ آج کل یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کی تہذیب ہمیشہ قائم رہے گی۔اس جگہ جو مصانع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس سے مراد بڑی بڑی فیکٹریاں اور کیمیکل ورکس ہی ہیں۔پھر فرمایا وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ تمہارے اند راتنی طاقت پائی جاتی ہے۔کہ جب تم کسی ملک پر غلبہ پاتے ہو تو تم اس کی تہذیب کو بالکل تباہ کردیتے ہو۔اس کی جگہ اپنی تہذیب اور اپناتمدن قائم کردیتے ہو۔جَبَّارٌ کے معنے ہوتے ہیں دوسرے کو نیچا کرکے اپنے آپ کواونچا کرنےوالا۔پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم دوسری اقوام کے تمدن اور تہذیب کوتباہ کرکے اپنے تمدن اور تہذیب کو دنیا میں قائم کرتے ہو۔اسی طرح وَاِذَا بَطَشْتُمْ