تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 492
ان سے پوچھو۔اس پر وہ تمہیں چھوڑ دیں گے۔تم اطمینان سے جنت میں چلی جانا۔میں نے کہا۔پیر صاحب! پھر آپ کا کیا بنےگا؟ کہنے لگے۔جب وہ مجھ سے پوچھیں گے تو میں اپنی لال لال آنکھیں نکال کر کہوں گا کہ کر بلا میں ہمارے نانا امام حسین ؓنے جو قربانی کی تھی کیا وہ کافی نہیں تھی کہ آج پھر ہمیں تنگ کیا جاتا ہے اور کہاجاتا ہے کہ بتائو تم نے کیا کیا ؟اس پر فرشتے شرمندہ ہوکر ایک طرف ہوجائیں گے اورہم دگڑ دگڑ کرتے ہوئے جنت میں چلے جائیں گے۔اسی طرح دنیا میں روزانہ ہمیں یہ نظارہ نظرآتا ہے کہ لوگ اپنے دوستوں کی خاطر جھوٹ بولنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔وہ ان کےلئے ہر قسم کے دھوکا اور فریب اور جعلسازی سے کام لینے کے لئے تیا رہوجاتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کے احکام کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔مگر قیامت کے دن نہ کسی کی دوستی کام آئے گی اور نہ اپنے سروں پر گناہوںکا بوجھ اٹھا لینے کا وعدہ کرنے والے کسی کو جہنم سے بچا سکیں گے بلکہ انہیں حسرت اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ اگر ہم میںیہ طاقت ہوتی کہ ہم دوبارہ دنیا میں لوٹ کر جاسکتے تو ہم تلافی مافات کرنے کےلئے تیارہیں مگر اس وقت ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکے گی۔کیونکہ اس وقت عمل کا دروازہ بند ہوچکا ہوگا۔فرماتا ہے۔ابراہیمؑ کے اس واقعہ میں بھی ایک بہت بڑا نشان مخفی ہے کہ کس طرح ابراہیمؑ نے انتہائی کمزوری اور ضعف کی حالت میں بتوں کے خلاف آواز بلند کی۔کس طرح اس کی قوم نے مخالفت کی اور آخر اسے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔مگر آخر ابراہیم ؑ ہی فاتح ہوا۔اور بت اس کی قوم کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے۔مگر اتنا بڑا نشان دیکھنے کے باوجود ابراہیم علیہ السلام کی قوم میں سے اکثر لوگ دنیوی لذات میں ہی منہمک رہے۔اور انہیں آپ پر ایمان لانے کی سعادت نصیب نہ ہوئی۔لیکن فرماتا ہے۔اِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمْ۔تیرا رب یقیناً بڑا غالب اور باربار رحم کرنے والا ہے۔یعنی بے شک ابراہیم علیہ السلام کی قوم کی اکثریت اس پر ایمان نہیں لائی مگر تیرا رب بڑا غالب اور مہربان ہے وہ ایک دن تیری قوم کی اکثریت کو تجھ پر ایمان لانے کی سعادت عطا فرمادے گا۔اور انہیں ایک لمبے عرصہ تک اپنے انعامات سے متمتع فرماتا چلا جائے گا۔چنانچہ فتح مکہ کے بعد ایسا ہی ہوا۔آپؐ کی ساری قوم آپ پر ایما ن لے آئی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس ایمان کی برکت سے انہیں سینکڑوں سال تک اپنے انعامات سے نوازا۔اور انہیں ایک لمبا دور حکومت عطا فرمایا۔