تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 491

کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا۔تب ان سے کہا جائے گا کہ اَيْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ۔مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ يَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ يَنْتَصِرُوْنَ وہ تمہارے معبود کہاں ہیں جن کے آستانہ پر تم سر جھکاتے تھے اور جنہیں اپنا خدا سمجھا کرتے تھے۔آج بتائوکہ کیا وہ تمہاری کچھ بھی مدد کر سکتے ہیں یا تمہارا بدلہ لینے کی کوئی طاقت رکھتے ہیں۔جب وہ اپنی آنکھوں سے اس انجام کو دیکھ لیںگے تو وہ بھی اور ان کے معبود بھی اور تمام ابلیسی لشکر بھی دوزخ میں اوندھے منہ گرا دیئے جائیں گے۔اور ان کی تمام عزتیں خاک میں مل جائیں گی۔تب وہ آپس میں جھگڑنا شروع کردیں گے اور وہ لوگ جو دنیا میں اپنے لیڈروں کی اندھی تقلید کرتے رہے اور خدا تعالیٰ کی آواز پر انہو ں نے کان نہ دھرا۔وہ ان سے کہیں گے کہ خدا کی قسم ہم تو بڑی غلطی میں مبتلا رہے۔جب کہ ہم تمہیں رب العالمین کے برابر درجہ دیتے رہے اورہم نے تمہاری باتوں پر تو کان دھرا مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو منادی آیا۔اس کی آواز کو ہم نے نہ سنا مگر پھر وہ اپنے دلوں کو تسلی دینے کے لئے کہیں گے۔اس میں ہمار ا کیا قصور ہے۔وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ ہمیں تو ان مجرموں نے ہی صحیح راستہ سے بھٹکایا ہے۔اگر یہ لوگ ہماری راہ میں روک بن کر کھڑے نہ ہوجاتے تو آج یہ ہمار ا حشر کیوں ہوتا۔یہ توہم سے کہا کرتے تھے کہ ہم تمہارے سب بوجھ اٹھالیںگے اور تمہیں جنت میں پہنچا دیں گے مگر آج یہ حالت ہے کہ فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَ وَلَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ نہ آج شفاعت کرنے والوں میں سے کوئی ہماری شفاعت کرتا ہے اور نہ کوئی دوست اور غمخوار ہمیں اس مصیبت سے چھڑاتاہے۔حضرت خلیفہء اوّل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ہماری ایک بہن تھی جو کسی پیر کی مرید تھی۔وہ ایک دفعہ قادیان مجھے ملنے کے لئے آئی۔تو میں نے کہا بہن تم احمدی کیوں نہیں ہوتیں۔وہ کہنے لگی مجھے احمدی بننے کی کیا ضرورت ہے۔میں نے فلاں پیر صاحب کی بیعت کرلی ہے اور انہوں نے مجھے کہہ دیا ہے کہ اب تمہیں کسی نیکی کی ضرورت نہیں جو جی میں آئے کرو۔تمہارے سب گناہ ہم نے اٹھا لئے۔میں نے کہا۔اب جب پیر صاحب سے ملوگی تو ان سے پوچھنا کہ قیامت کے دن جب ایک ایک شخص کو گناہوں کی وجہ سے جوتیا ں پڑنی ہیں تو کبھی آپ نے یہ بھی سوچاکہ آپ جنہوں نے اپنے سب مریدوں کے گناہ اٹھا لئے ہیں آپ کو کتنی جوتیا ں پڑیں گی۔وہ کہنے لگی اچھا میں یہ بات ان سے ضرور دریافت کروں گی۔چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد جب وہ دوبارہ آپ سے ملنے کے لئے آئی تو آپ نے پوچھا۔کہ بہن پیر صاحب سے وہ بات پوچھی تھی۔وہ کہنے لگی۔ہاں میں نے پوچھی تھی مگر وہ تو انہوں نے فوراً حل کردی۔میں نے کہا کس طرح ؟ کہنے لگی جب میں نے یہ سوال کیا تو پیر صاحب کہنے لگے۔دیکھو جب فرشتے تم سے پوچھیںکہ تم نے فلاں فلاں گناہ کیوں کئے ہیںتوکہہ دینا کہ مجھے اس کا کچھ پتہ نہیں۔یہ پیر صاحب کھڑے ہیں