تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 490
دیا کہ کہیں اس کی عادت ہی نہ پڑجائے غرض بڑی تکلیف دہ اور بد مزہ چیزیں بھی اگر علاج کے طورپر استعمال کی جائیں توا ن کی عادت پڑ جاتی ہے اور اچھی معلوم ہونے لگتی ہیں۔اور جب ادنیٰ چیزوں کی عادت پڑ جاتی ہے تو دین کی قربانی کی عاد ت کیوں نہیں پڑ سکتی۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان کو ایک دفعہ قربانی کےلئے آگے لایا جائے اس کے بعد خود بخود اس کے اندر ذوق پیدا ہوجاتا ہے۔اور اسے دین کے کاموں میں ایسی لذت آنے لگتی ہے کہ ان کو ایک لمحہ کے لئے بھی چھوڑنا اس کے لئے ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔جس طرح ایک انسان کو روٹی نہیں ملتی تو وہ چلاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتا ہے کہ خدایا مجھے روٹی دے۔اسی طرح اگر اسے اشاعت ِدین کی توفیق ملتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کا ممنون ہوتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے۔اور اگر کسی وقت اسے دین کی خدمت کی توفیق نہیں ملتی تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتاہے کہ وہ اس کی کمزوری کو دور کرے اور اس کے اندر دینی خدمات بجا لانے کی زیادہ سے زیادہ طاقت پیدا کرے۔اس طرح قدم بقدم نیکی اس پر آسان ہوتی جاتی ہے اور جنت اس کے قریب ہوتی چلی جاتی ہے لیکن سچائی سے منحرف لوگوں کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ ان کے لئے دینی قربانیاں جوایک مومن کے لئے بالکل آسان ہوتی ہیںآگ کے شعلوں کا سا رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔اور وہ ان سے دور بھاگتے ہیں اور اپنے آپ کو ان سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔گویا مومن تو خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے قربانیوں کی آگ میں اپنے آپ کو جھونک دیتے ہیں۔اور وہ آگ ان کے لئے گلزار بن جاتی ہے لیکن ایک منافق اور ایک گمراہ انسان کو وہی آگ جہنم کا ایندھن بنا دیتی ہے۔کیونکہ اس وقت اس کی بے ایمانی پر جو پردہ پڑاہوتا ہے وہ اُٹھ جاتا ہے۔اسی طرح اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَمیں یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ آخری زمانہ میں جنت متقیوں کے قریب کردی جائے گی۔یعنی اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کردے گا۔کہ مذہبی باتیں لوگوں کی سمجھ میں آنے لگ جائیںگی اور سائینس جو مذہب کی مخالفت کررہی ہوگی اس کی مخالفت آپ ہی آپ ختم ہوجائے گی اس طرح متقی لوگوں کے لئے جنت کا حصول بہت آسان ہوجائے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں یہ پیشگوئی پوری ہورہی ہے اور احرارِ یورپ میں سے کچھ تو آہستہ آہستہ اپنے بلند بانگ دعا وی کو چھوڑ رہے ہیں۔اور کچھ ان باتوں کو جو اس سے قبل انہیں غیر قدرتی نظر آتی تھیں قانون ِقدرت میں شامل کرکے مذہب کی طرف آرہے ہیں گویا دَنَافَتَدَلّٰی کی سی کیفیت پیدا ہورہی ہے۔یعنی سائینس دان اوپر کی طرف چڑھ رہا ہے۔اور علماء نے جو مبالغہ کا رنگ مذہب پر چڑھا دیا تھا وہ اتارا جارہا ہے۔اور اس طرح دنیاخدائی باتوں کی تصدیق کے لئے تیار ہورہی ہے اور جنت ان کے قریب کی جارہی ہے۔مگر ایسے زمانہ میں بھی جولوگ خدائی ہدایت کو قبول کرنے سے اعراض کریںگےانہیں اپنےاعمال کی جواب دہی